چودہ رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

فائل فوٹو،
Image caption جسٹس ریٹائرڈ میر ہزار خان کھوسو نے پچیس مارچ کو نگراں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا

پاکستان کی چودہ رکنی نگراں وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے تاہم نگراں وزرا کے محکموں کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے چودہ رکنی نگراں وفاقی کابینہ سے حلف لیا۔

تقریب میں نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے بھی شرکت کی۔

سرکاری اعلان کے مطابق منگل کو پندرہ رکنی نگراں کابینہ نے حلف اٹھانا تھا تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حلف برداری کی تقریب سے عین پہلے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے رکن ڈاکٹر مشتاق خان کی کرسی اٹھا لی گئی۔

ابھی تک ڈاکٹر مشتاق کے حلف نہ اٹھانے کے بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

پنجاب سے جن افراد کو وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا ان میں ملک حبیب، احمر بلال صوفی، ڈاکٹر مصدق ملک، عارف نظامی، سہیل وجاہت صدیقی، شہزادہ احسن اشرف شاہ، اور شہزادہ جمال شامل ہیں۔

سندھ سے جن افراد کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے ان میں مقبول رحمت اللہ، ڈاکٹر یونس سومرو اور سہیل وجاہت صدیقی شامل ہیں۔

بلوچستان سے جن افراد کو وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے ان میں اسد اللہ مندوخیل، میر حسن ڈومکی اور عبدالملک کانسی شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا سے ڈاکٹر ثانیہ نشتر، اور فیروز جمال شاہ کاکاخیل کو نگراں کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

نگراں کابینہ میں شامل ارکان میں چند کا تعارف

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق نگراں کابینہ میں پنجاب سے شامل سینیئر صحافی عارف نظامی کئی برسوں سے شبعہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ وہ ایک انگریز ی اخبار پاکستان ٹو ڈے کےمدیر ہیں۔

احمد بلال صوفی مشہور وکیل ہیں، انہیں بین الاقوامی قوانین پر دسترس حاصل ہے۔ سابق فوجی صدرجنرل پرویزمشرف کے دورِ حکومت میں وہ کرپشن کی مقدمات میں قومی احتساب بیورو یا (نیب) کی قانونی معاونت کرتے تھے۔

ملک حبیب پنجاب کے سابق آئی جی پولیس رہ چکےہیں۔وہ ملک کے دیگرصوبوں میں بھی اچھے پولیس آفیسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

وفاقی نگران کابینہ سندھ سے تین وزراء ڈاکٹر یونس سومرو، مقبول رحمت اللہ اور سہل وجاہت شامل ہیں۔

سہل وجاہت مختلف اوقات میں سیمنز اور کےایس سی کے چیف ایگزیکٹو کےعہدوں پر فائز رہ چکےہیں۔وہ کراچی کے رہائشی ہیں اور ان کا شمار سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتاہے۔

بلوچستان سے تین وزرا ڈاکٹرمالک کاسی، شیخ اسداللہ مندوخیل اور میرحسن خان ڈومکی نگران کابینہ کا حصہ ہیں۔

ڈاکٹرعبدالمالک کاسی کا تعلق کاسی قبیلے سےہے جو صوبائی دارلحکومت کوئٹہ اور کچلاک میں آباد ہیں۔ وہ ماہرِ امراضِ اطفال ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی زمیندار ہیں۔سابق صدرجنرل پرویزمشرف کے دور میں قائم نگران حکومت میں بطور وفاقی وزیرصحت خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

اسداللہ مندوخیل کا تعلق ژوب کے گاؤں کلی شیخان سے ہے۔ کاروبار کے لحاظ وہ ٹھیکدار ہیں، اور زیادہ تر پنجاب اورخیبرپختونخوا میں سڑکوں اور بلڈنگ بنانےکا کام کرتے ہیں۔

میرحسن خان ڈومکی کا تعلق ضلع سبی میں لہڑی کے علاقے سے ہے۔وہ سابق سینٹیرمرحوم میرنبی بخش ڈومکی کے صاحبزادے ہیں اورغیر سیاسی قبائلی شخصیت ہیں۔ ان کا ذریعۂ روزگار زمینداری ہے۔

کابینہ میں شامل واحدخاتون ثانیہ نشترکا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا سے ہے۔

ثانیہ نشتر نے ملک میں صحت کے لیے پہلی قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے جس پر انہیں ستارۂ امتیاز بھی دیاگیا۔ نشتر نے کینگ کالج لندن سےشعبۂ صحت میں پی ایچ ڈی کی ہے۔

اسی بارے میں