پشاور:گرڈ سٹیشن پر حملے میں سات ہلاک

Image caption ہلاک ہونے والوں میں واپڈا کے چار اور پولیس کے تین اہلکار شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں ایک گرڈ سٹیشن پر شدت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ واپڈا کے چار اہلکار اب بھی لاپتہ ہیں۔

لاپتہ اہلکاروں کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن جاری ہے تاہم ابھی تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

مقامی پولیس کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب شدت پسندوں نے شیخ محمدی گاؤں میں واقع واپڈا کےگرڈ سٹیشن پر حملہ کر کے اسے بارود سے اڑا دیا۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے حملے کے دوران موقع پر موجود دو افراد کو ہلاک کر دیا جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد کو ساتھ لے گئے۔

پشاور کے مضافات میں شدت پسندوں کی کارروائیاں

اغوا کیے جانے والے نو افراد میں سے پانچ کی لاشیں بعدازاں قریبی علاقے سے مل گئی۔

پشاور میں پیسکو کے ترجمان شوکت افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں واپڈا کے چار اور پولیس کے تین اہلکار شامل ہیں جبکہ واپڈا کے چار اہلکار اب بھی لاپتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسند راکٹوں سے حملہ کر کے گرڈ سٹیشن کی دیوار توڑ کر اندر داخل ہوئے۔

ترجمان کے مطابق حملہ آور بھاری اسلحے سے لیس تھے اور انہوں نے بارودی مواد سےگرڈ سٹیشن کے کنٹرول نظام کو تباہ کر دیا جس کی وجہ سے بعض علاقوں کی بجلی منقطع ہو گئی۔

Image caption یاد رہے کہ خیبرایجنسی کا علاقہ اکاخیل متاثرہ گرڈسٹیشن سے چند کلومیٹرکے فاصلے پر ہے

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیخ محمدی گاؤں کے رہائشی مسعود عبدالخیل نے بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً ایک بجے بڑی تعداد میں مسلح لوگوں نے گرڈ سٹیشن پر ہلہ بولا اورکنٹرول روم کو بارودی مواد سے تباہ کرنے سے پہلے وہاں موجود دو اہلکاروں کو مار ڈالا۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے پانچ افراد کی لاشیں بعد میں گرڈ سٹیشن سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر ملیں۔

یاد رہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کا علاقہ اکاخیل متاثرہ گرڈ سٹیشن سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

اسی بارے میں