خواتین نشستوں کے لیے پارٹی کارکن نظرانداز

Image caption پیپلز پارٹی کی کارکن ساجدہ میر کا اپنی جماعت سے شکوہ ہے کہ انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ ان کا قصور کیا ہے

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے خواتین کی مخصوص نشستوں پر نامزدگیوں کو حتمی شکل دے دی ہے اور ماضی کی طرح اس بار بھی خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد کا رکن اسمبلی بننے کا خواب ادھورا رہ گیا ہے۔

کئی سیاسی کارکن خواتین کو درخواست دینے کے باوجود مخصوص نشست پر نامزد نہیں کیاگیا۔

خواتین کی مخصوص نشستوں پر سیاسی جماعتوں نے جو نامزدگیاں کیں ہیں ان میں زیادہ تر سیاسی رہنماؤں کی قریبی رشتہ دار خواتین کو ترجیحی دی گئی ہے۔

عام طور پر یہ روایت رہی ہے کہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر بیوی ، بیٹی اور بہو ہی رکن اسمبلی منتخب ہوتی ہیں اور اگر کسی خاتون کارکن کو ٹکٹ دیا جاتا ہے تو اس کا نام فہرست میں اس قدر نیچے ہوتا ہے کہ اس کا رکن اسمبلی بننا تقریباً نامکمن ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی ساجدہ میر بھی انہیں خواتین کارکنوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے خواتین کی مخصوص نشستوں پر ٹکٹ کے لیے اپنی جماعت کو درخواست دی تاہم ان کی جماعت نے انہیں قومی اور صوبائی اسمبلی میں سے کسی ایک نشست پر بھی نامزدہ نہیں کیا۔

ساجدہ میر تحلیل ہونے والی پنجاب اسبمبلی میں مخصوص نشست پر رکن اسمبلی بنیں تھی اور ان کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے صوبائی اسمبلی میں بھر پور کردار ادا کیا لیکن کی کارکردگی کے باوجود انہیں نظرانداز کیا گیا۔

ساجدہ میر کا اپنی جماعت سے شکوہ ہے کہ انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ ان کا قصور کیا ہے۔ان کے بقول ٹکٹ حاصل کرنے کا معیار بڑی گاڑی، بڑا گھر یا بنگلہ اور فائیو سٹار ہوٹل میں کھانے ہیں تو وہ ہر کسی سیاسی کارکن کے بس کی بات نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک سیاسی کارکن ہونے کے ناطے وہ پارٹی کے لیے کام کرسکتی ہیں لیکن کسی کے گھر کا کام کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔

ساجدہ میر کے مطابق لوگ یہ سوال کریں گے کہ کارکنوں کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے۔

مصبرین کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں پر ٹکٹیں تعلقات کی بنیاد پر بااثر افراد کو دی جاتی ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہوا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے اس بات افسوس کا اظہار کیا کہ بدقستمی سے سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم پر بااثر افراد کا قبضہ ہے ۔

ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق سیاسی جماعتوں کی مخصوص نشستوں پر نظر ڈالیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ مخصوص نشستوں پر بڑے گھروں کی خواتین یعنی بیوی ، بیٹی اور بہو ہی منتخب ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ جب تک پیسے والے افراد کا کنٹرول قائم رہے گا اس وقت تک سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ ایسی خواتین کا اسمبلی میں پہنچنا مشکل لگتا ہے جو اپنے شبعہ کی ماہر سمجھی جاتی ہیں۔

خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت کے لیے کام کرنے والی فرازنہ ممتاز کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے کارکن خواتین کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ مایوس کن ہے ۔

ان کے بقول سیاسی جدوجہد کرنے والی خواتین کو پارٹی ٹکٹ کے لیے نظر انداز کرنا ناانصافی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکن خواتین کو سیاسی مزراعہ سمجھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹکٹ دینے کے وقت سیاسی کارکن کو انتظار فرمائیں کہہ کر دلاسہ دیا جاتا ہے اور وہ بچاری منہ تکتی رہ جاتی ہیں۔

فرازنہ ممتاز کا کہنا ہے کہ خواتین پہلے ہی سیاسی عمل میں شرکت سے گریز کرتی ہیں اور سیاسی کارکن خواتین کو پارٹی ٹکٹ نہ دینے سے بددل ہوں گی جو بقول ان کے سیاسی عمل میں خواتین کا راستہ روکنے کے برابر ہوگا۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی یہ مجبوری ہے کہ ان کو خواتین کی مخصوص نشتوں پر پارٹی کے عہدیدار اور ارکان اسمبلی کے مطالبات ماننے پڑتے ہیں کیونکہ یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھیس کا معاملہ ہے۔

اسی بارے میں