’پارٹی سے اقلیتی ونگ ختم کریں‘

پاکستان پپلزپارٹی کی اقلیتی ونگ کے رکن ڈاکٹر جے پال چھابڑیا نے مطالبہ کیا ہے کہ پارٹی میں اقلیتی ونگ کو ختم کیا جائے کیونکہ اس سے اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا تاثر ملتا ہے اور ان میں احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔

کراچی پریس کلب میں بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جے پال نے کہا کہ اقلیتی ونگ ونگ کے باعث اقلیتی اراکین کبھی بھی سیاست کے قومی دھارے میں شامل نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتی ونگ کے باعث ہمیں لگتا ہے کہ ہم کوئی الگ مخلوق ہیں لیکن اگر اقلیتی ونگ ختم کردیا جائے تو اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ جو الگ تھلگ ہونے کا احساس ہے وہ جاتا رہے گا اور دوسرے یہ کہ سینئر رہنماؤں کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملے گا۔

ان کے بقول ’اگر ہم منارٹی ونگ میں ہیں تو ہم اپنی پارٹی کی قیادت سید قائم علی شاہ، نثار کھوڑو، سسّی پلیجو ، دیگر رہماؤں کے ساتھ کام کرنے کا زندگی بھر موقع نہیں ملے گا لیکن میں چاہتا ہوں کہ نہ صرف ایسے رہنماؤں کے ساتھ کام کروں بلکہ اپنے آپ کو ثابت بھی کرسکوں کہ میں کام کرسکتا ہوں۔’

ڈاکٹر جے پال شاعر بھی ہیں جبکہ بعض اخبارات و جرائد میں وہ کالم بھی لکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے ایسا تو کبھی نہیں کہا کہ پاکستان میں کوئی اقلیتی رکن وزیراعلٰی یا وزیراعظم یا صدر نہیں بن سکتا۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں وہ پاکستان دیا جائے جو قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان ہے۔’

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی لیکن اس ترمیم کے لیے پہلے رائے عامہ ہموار کرنی پڑے گی۔

دیگر مطالبات میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارٹی میں ایک پارلیمانی بورڈ ہونا چاہیے جو پارٹی ٹکٹ دینے سے پہلے امیدواروں کا انٹرویو کرے اور ان کی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر انہیں ٹکٹ دیا جائے۔

ڈاکٹر جے پال نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جو شخص خاص طور پر اقلیتی رکن ایک مرتبہ منتخب ہوجائے اسے اگلے انتخابات میں دوبارہ ٹکٹ نہ دیا جائے بلکہ دوسروں کو موقع دیا جائے۔