’مجھے یوں ہی خیال آیا۔۔۔‘

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے مرکز خار میں واقع بادام زری کا گھر گزشتہ چند دنوں سے ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ان کا آج کل یہ معمول ہے کہ وہ صبح اٹھتی ہیں تو ان کے مکان کے چھوٹے سے لان میں صحافی کیمروں اور دیگر ریکارڈنگ آلات کے ساتھ ان کا انتظار کررہے ہوتے ہیں۔ ہر صحافی کی کوشش ہوتی ہے کہ پہلے ان کو وقت ملے تاکہ وہ بادام زری کا انٹرویو کر سکے۔

بادام زری قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون ہیں جو فاٹا کے کسی علاقے سے آنے والے انتخابات میں امیدوار ہیں۔ وہ باجوڑ ایجنسی کے انتخابی حلقہ این اے چوالیس سے آزاد حیثیت سے جنرل نشست پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔

متوسطہ طبقے سے تعلق رکھنے والی بادام زری نے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ وہ بنیادی طورپر گاؤں کی ایک سیدھی سادھی قبائلی اور گھریلو عورت ہیں۔ ان سے بات کرکے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کا سیاست اور دنیا کے نشیب و فراز سے دور تک بھی کوئی واسط نہیں۔

لیکن ان کو سیاست کی طرف راغب کرنے اور انتخابات میں حصہ لینے کے پیچھے ان کے شوہر سلطان محمد کا اہم کردار رہا ہے۔ سلطان محمد خار میں ایک مقامی سکول کے وائس پرنسپل ہیں۔ ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد تعلیم یافتہ ہیں جبکہ ایک بھائی انگلینڈ میں طب کے شعبے سے منسلک ہیں۔

ترپن سالہ بادام زری کا کہنا ہے ’مجھے یوں ہی خیال آیا کہ اگر مرد انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں تو خواتین کو بھی حصہ لینا چاہیے۔ ملک میں ایسے اور بھی علاقے ہیں جہاں سے خواتین نے الیکشن میں حصہ لے کر کامیاب ہوئی ہیں اور پھر فاٹا سے تو ضرورت زیادہ ہے کیونکہ ان علاقوں سے پہلے کبھی کوئی خاتون ممبر منتخب نہیں ہوئی ہیں۔‘

بادام زری کی کوئی اولاد نہیں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ایک چھوٹے سے سرکاری کوارٹر میں رہائش پذیر ہیں۔ بظاہر ان کے اتنے وسائل نہیں جو عام طور پر پاکستان میں انتخاب لڑنے کےلیے لازم ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں بھی زیادہ تر مالدار اور پرانے سیاست دان میدان میں ہیں جو اس سے پہلے بھی اس حلقے سے الیکشن جیتے رہے ہیں۔

تاہم بادام زری کا کہنا ہے کہ وہ اپنی محنت جاری رکھیں گی اور ان سے ہر طرف سے لوگ رابطے بھی کر رہے ہیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ ان کے علاقے میں شدت پسندوں کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اور ان کا الیکشن میں حصہ لینے پر ان کو سکیورٹی کا مسئلہ بھی پیش آسکتا ہے تو اس پر انہوں نے کہا ’وہ نیک ارادے سے سیاست میں آئی ہیں اور نیک نیتی سے کام بھی کررہی ہیں تو پھر خوف کس بات کا۔ باجوڑ کے عوام ان کے بہن بھائی ہیں اس لیے انہیں کوئی خوف محسوس نہیں ہورہا لیکن پھر بھی ہوگا وہی جو اللہ کو منظور ہوگا۔‘

قبائلی علاقوں میں عام طور پر خواتین کا گھر سے باہر قدم رکھنے کو برا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بادام زری کو اپنے شوہر اور قبیلے کے تمام افراد کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ان کے شوہر سلطان محمد کے مطابق ان کے والد نے بادام زری کو الیکشن میں حصہ لینے پر مجبور کیا۔

دوسری جانب باجوڑ کے عوام بھی بادام زری کا الیکشن میں حصہ لینے کو اپنے لیے فخر سے تعبیر کررہے ہیں۔ علاقے کے ایک باشندے غفار طوفان کا کہنا ہے ’الیکشن میں ہار جیت تو ہوتی ہے اور شاید بادام زری کو تجربہ کار اور مالدار سیاست دانوں کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا بھی ہو لیکن انہوں نے مردوں کے مقابلے میں جس جرآت کا مظاہرہ کیا ہے اس کے آنے والے وقتوں میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ بادام زری نے فاٹا کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے جو قبائلی علاقوں کی تعلیم یافتہ خواتین کےلیے ایک مثال ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کے باوجود بھی ہر طرف الیکشن کا ماحول نظر آتا ہے۔ تاہم کوئی بڑا جلسہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

صدر مقام خار کے بازاروں اور گلیوں میں دیگر امیدواروں کے پوسٹرز اور بنیرز تو نظر آئے تاہم ان میں بادام زری کے نام سے منسوب کوئی پوسٹر یا بینر دکھائی نہیں دیا۔

اسی بارے میں