’حکومت سات روز میں نو گو ایریا ختم کرے‘

پاکستان کا سپریم کورٹ
Image caption عدالت نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے کہ اس نے شہر کے تمام ایک بارہ تھانوں سے رپورٹیں منگوائی تھیں لیکن وہ جمعہ نہیں کرائی گئی ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے حکومتِ سندھ کو حکم دیا ہے کہ کراچی میں نو گو ایریاز سات روز کے اندر ختم کیے جائیں۔

جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران عدالت نے نو گو ایریاز کے بارے میں پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تمام رپورٹس میں یکسانیت ہے۔

پولیس نے اپنی رپورٹس میں کہا تھا کہ لیاری، کھارادر، عیدگاہ، اور گارڈن سے رکاوٹیں اور بیریئر ہٹادیے گئے ہیں جس کے بعد اب اِن مقامات پر نو گو ایریاز کا تاثر ختم ہوگیا ہے۔

پانچ رکنی لارجر بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ رپورٹس ایک ہی شخص نے بنائی ہیں۔

عدالت نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ اس نے شہر کے تمام ایک سو بارہ تھانوں سے رپورٹیں منگوائی تھیں لیکن وہ جمع نہیں کرائی گئیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کاغذی کارروائی اور عدالت کی آنکھوں میں دھول جھوکنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس روز پولیس اور رینجرز نے جرائم اور جرائم پیشہ افراد پر قابو پانے کا سنجیدگی سے ارادہ کرلیا، شہر میں امن ہوجائے گا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جناب جسٹس جواد ایس خواجہ، جناب جسٹس خلجی عارف حسین، جناب امیرہانی مسلم اور جناب جسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل لارجر بینچ کراچی میں بدامنی پر ازخود نوٹس اور اس کیس میں سنہ دو ہزار بارہ کو دیے گئے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے سلسلے میں سماعت کررہا ہے۔

انتیس مارچ کو اپنی گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے قانون نافذ کرنے والے افسران کی شہر میں جرائم پر قابو پانے میں ناکامی پر سرزنش کی تھی۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ چیف سیکریٹری، پولیس، اور رینجرز کے سربراہان ایک ہفتے میں نوگوایریاز ختم کریں اور صوبائی چیف سیکریٹری دستخط کر کے سرٹیفکیٹ دیں کہ شہر میں اب کوئی نو گو ایریاز نہیں ہیں۔

عدالت نے کہا کہ چیف سیکریٹری سندھ، کراچی میں امن وامان کے ذمیدار ہیں اور وہ شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

عدالت نے پولیس میں انسداد تجاوزات سیل کا بھی نوٹس لیا جس کے سربراہ ایس پی عرفان بہادر کو تعینات کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ عرفان بہادر کے خلاف اتنی شکایات ہے کہ لگتا ہے کہ وہ زمینوں پر قبضوں میں خود ملوث ہیں۔

عرفان بہادر نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ ان پر الزامات ہیں لیکن وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

عدالت نے پولیس کے ایس پی عرفان بہادر سے کہا کہ ان کے خلاف عدالتوں میں جتنے مقدمات قائم ہیں ان کی تفصیل کے ساتھ آئندہ سماعت میں حاضر ہوں۔

کیس کی آئندہ سماعت جمعہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہوگی۔

اسی بارے میں