فیصل صالح، ایاز امیر کے کاغذات مسترد

Image caption فیصل صالح حیات نے اس مرتبہ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ریٹرننگ افسران نے دو سابق ارکان قومی اسمبلی فیصل صالح حیات اور ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق چنیوٹ کے حلقہ این اے 87 میں ریٹرننگ افسر نے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کے خواہشمند اور مسلم لیگ قاف کے سابق وفاقی وزیر فیصل صالح حیات کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے۔

کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کی وجہ ان پر انتخابی مخالفین کی جانب سے بجلی اور نہری پانی چوری کرنے کا الزام بتائی گئی ہے۔

اسی حلقے سے سینیئر سیاستدان سیدہ عابدہ حسین کے بیٹے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ممکنہ امیدوار عابد امام کے کاغذاتِ نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے ہیں۔

اس سے قبل پنجاب کے علاقے چکوال میں ریٹرننگ افسر نے مسلم لیگ نواز کے رہنما ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔

ایاز امیر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 سے مسلم لیگ نون کے امیدوار تھے اور ریٹرننگ آفیسر نے ایاز امیر کے اخبارات میں شائع ہونے والے دو کالموں کو بنیاد پر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے ہیں۔

ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی کو مقامی صحافی بابر سلیم نے چیلنج کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ایاز امیر نے نظریہ پاکستان کے خلاف کالم لکھے ہیں اس لیے وہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں لہٰذا ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے جائیں۔

ایاز امیر کے مطابق انہوں نے نظریہ پاکستان کے بارے میں دو کالم لکھے تھے اور انہیں دو کالموں کی بنا پر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں۔

قانون کے مطابق کوئی امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے کے خلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرسکتا ہے۔

ایاز امیر کا شمار پاکستان کے معروف کالم نگاروں میں ہوتا ہے اور تحلیل ہونے والی قومی اسمبلی میں وہ مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں