غداری کا مقدمہ:درخواست ابتدائی سماعت کےلیےمنظور

Image caption پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے سے متعلق بھی ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق دائر کی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے پیر سے اس کی سماعت کا اعلان کیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ابتدائی سماعت میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ کرے گا۔

لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کے صدر توفیق آصف نےاس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پرویز مشرف نے اقتدار کے دوران دو مرتبہ آئین کو توڑا اور پاکستانی قانون میں اس کی سزا موت ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے اس ضمن میں کوئی عملی اقدامات نہیں کیے تھے اس لیے عدالت وفاقی حکومت کو ہدایت کرے کہ وہ سابق فوجی صدر کے خلاف پاکستانی قانون کے تحت کارروائی کرے۔

یہ درخواست ابتدائی طور پر سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی اور عدالت نے اُنہیں ’غدار‘ قرار دیتے ہوئے درخواست گُزار کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر کے خلاف فیصلہ سپریم کورٹ کے اکتیس جولائی سنہ دوہزار نو کے فیصلے کی روشنی میں دیا جس میں عدالت عظمیٰ نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے گُزشتہ سماعت کے دوران درخواست گُزار اقبال حیدر کو وکیل مقرر کرنے کے لیے دس روز کی مہلت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے گُزشتہ کچھ عرصے سے مولوی اقبال حیدر پر سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ پرویز مشرف سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو، سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب اکبر بُگٹی اور اعلی عدالتوں کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمات میں اشتہاری ہیں اور ان دنوں میں سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے دی جانے والی حفاظتی ضمانت پر ہیں۔

پرویز مشرف ان دنوں پاکستان میں ہیں اور اُنہوں نے ملک میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

سابق فوجی صدر پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بُگٹی اور اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمات میں اشتہاری ہیں اور سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں اُن کی پندرہ روز کی حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

اسی بارے میں