نواز کے کاغذاتِ نامزدگی منظور، مشرف کے مسترد

پاکستان میں عام انتخابات کے لیے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرتے ہوئے انہیں انتخاب میں حصہ لینے کے اہل قرار دے دیا گیا ہے جبکہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے بعد انہیں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

نواز شریف

Image caption نواز شریف سولہ برس کے وقفے کے بعد لاہور کے حلقہ این اے 119 اور این اے 120 سے عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں

لاہور کے حلقہ این اے 119 سے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں جبکہ این اے 120 میں تحریری جواب کے لیے انہیں سات اپریل تک کی مہلت دی گئی ہے۔

جمعہ کو سماعت کے دوران این اے 119 میں ریٹرننگ افسر نے نواز شریف کے کاغذات پر اعتراضات مسترد کر دیے۔

اس حلقے میں مسلم لیگ’قاسم گروپ‘ کے رہنما محمد اشفاق نے میاں نواز شریف پر اعتراض کیا تھا کہ ان کی جماعت مسلم لیگ نون نے ناجائز طور پر لاہور کی ڈیوس روڑ پر واقع مسلم لیگ ہاؤس پر قبضہ کر رکھا ہے۔

سماعت کے دوران میاں نواز شیرف کے وکیل مصطفیٰ رمدے اور سلمان بٹ نے کہا کہ ان کے موکل اور مسلم لیگ نون کا مسلم لیگ ہاؤس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ دفتر مسلم لیگ قاف کے زیر استعمال ہے جس کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ہیں۔

ریٹرننگ آفیسر نے میاں نواز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کرتے ہوئے کہا کہ اعتراضات سے متعلق مصدقہ دستاویزات فراہم نہیں کی جا سکی ہیں۔

ادھر این اے 120 میں ریٹرننگ افسر نے میاں نواز شریف کے وکلاء کو تحریری جواب دائر کرنے کے لیے سات اپریل تک کی مہلت دے دی ہے۔

اس حلقے میں ان کے کاغذات نامزدگی کو ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار سہیل ملک نے چیلنج کیا تھا اور اس پر ریٹرننگ آفیسر نے میاں نواز شریف کو نوٹس جاری کیے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق میاں نواز شریف کے وکلا جمعہ کو ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہوئے اور استدعا کی کہ انہیں اعتراضات کی نقل ابھی ملی ہے اور تحریری جواب پیش کرنے کے لیے وقت درکا ہے۔

اس پر ریٹرننگ آفیسر نے میاں نواز شریف کے وکلاء کو سات اپریل تک مہلت دیتے ہوئے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی پر اعتراضات سے متعلق فیصلہ اسی دن سنا دیا جائے گا۔

پرویز مشرف

پنجاب کے علاقے قصور کے ریٹرننگ افسر نے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے قصور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سوانتالیس سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

سابق فوجی صدر کے کاغذات نامزدگی کو مقامی وکیل جاوید قصوری نے چیلنج کیا تھا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ جنرل پرویز مشرف آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور ٹرسٹھ پر پورا نہیں اترتے ہیں اس لیے انہیں نااہل قرار دیا جائے۔

ریٹرننگ افسر نے جنرل پرویزمشرف کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات پر انہیں عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا۔

جنرل پرویز مشرف آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ ہیں اور کراچی ، اسلام آباد اور چترال سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے سلسلے میں اُنہیں حاضری سے استثنیٰ بھی دیا ہے۔ پرویز مشرف نے عدالت کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چونکہ اُنہیں سکیورٹی خدشات ہیں لہٰذا وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔

دوسری جانب مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے الیکشن کمیشن سے ایک درخواست میں التماس کی ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا جائے۔

اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ مشرف کئی مقدموں میں مطلوب ہیں جن میں قتل کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا ان مقدمات میں لال مسجد میں معصوم افراد کا قتل، بینظیر بھٹو اور نواب اکبر خان بگٹی کا قتل شامل ہیں۔

عمران خان

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی کو بھی ریٹرننگ افسر کے روبرو چیلنج کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

ریٹرننگ افسر نے عمران خان کو چھ اپریل کے لیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

عمران خان لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بائیس سے امیدوار ہیں اور ان کے حلقے کے ایک ووٹر محمد اسلم نے ان کی انتخاب لڑنے کی اہلیت کو چیلنج کیا ہے۔

محمد اسلم کے وکیل جواد اشرف نے یہ اعتراض اٹھایا کہ عمران خان کے سیتا وائٹ نامی خاتون سے تعلقات تھے اور ان سے ان کی ایک بیٹی بھی ہے اس لیے وہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور ٹرسٹھ پر پورا نہیں اترتے۔

خیال رہے کہ عمران خان کی گرل فرینڈ سیتا وائٹ نے دعویٰ کیا تھا ان کی بیٹی ٹائرین وائٹ عمران خان کی اولاد ہے۔ سیتا وائٹ دو ہزار پانچ میں انتقال کر گئی تھیں۔

اسی بارے میں