کراچی: نوگو ایریاز کی رپورٹس دوبارہ مسترد

Image caption افسران قانون کی رٹ قائم کریں ورنہ گھر جائیں: چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے جمعے کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران نوگوایریاز کے خاتمے سے متعلق پولیس کی تازہ رپورٹ کو ایک بار پھر مسترد کردیا۔

عدالت نے جمعرات کو بھی اسی بابت پولیس کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ہدایت جاری کی تھی کہ تمام 112 تھانوں کے ایس ایچ او اپنی اپنی رپورٹیں جمع کرائیں۔

پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی دوسری رپورٹ پر عدالت نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔

پولیس نے اپنی تازہ رپورٹ میں شہر میں 29 جزوی اور 13 مکمل نوگوایریاز کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سات روز میں نتائج نہ ملے تو بلوچستان کی طرح سخت فیصلہ کریں گے، افسران قانون کی رٹ قائم کریں ورنہ گھر جائیں۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ پولیس اور رینجر شہر سے تمام بیریئر ختم کریں کیونکہ یہ تاثر غلط ہے کہ لوگ اپنےگھروں کی حفاظت کے لیے بیریئر لگاتے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جناب جسٹس جواد ایس خواجہ، جناب جسٹس خلجی عارف حسین، جناب امیرہانی مسلم اور جناب جسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل لارجر بینچ، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بدامنی پر ازخود نوٹس کے تحت اس کیس میں 2012 کو دیے گئے اپنے فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں سماعت کر رہا ہے۔

عدالت نے آئی جی پولیس سندھ کو حکم دیا کہ وہ تین روز میں تھانیداروں اور ڈی ایس پیز کے حلف نامے جمع کرائیں جن میں وہ کہیں کہ ان کے متعلقہ علاقوں میں نو گو ایریاز نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پولیس اور رینجر کی کارکردگی دیکھ کر لگتا ہے کہ انھیں مکمل اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پولیس اور رینجرز کے اندرونی خلفشار کے باعث شہری پریشان ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ساری دنیا میں جرائم ہوتے ہیں لیکن نو گو ایریاز کہیں نہیں ہوتے۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ آئی جی سندھ کی سربراہی میں تمام ایس ایچ او، ڈی ایس پی اور ایس پی میٹنگ کریں کہ شہر میں قانون کی رٹ کیسے قائم کرنی ہے۔

جسٹس خلجی عارف حسین نے پولیس افسران سے کہا کہ جمعے کو تو سچ بولا کریں، پولیس و رینجرز ہاتھ اٹھا کر کہہ دیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔

سپریم کورٹ نے اہلِ سنت والجماعت کے رہنما اورنگزیب فاروقی کی درخواست پر جماعت کے رہنماؤں کے قتل کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

اورنگزیب فاروقی نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ عبدالمجید دین پوری کے قتل میں ایک سیاسی جماعت کے کارکن کی مبینہ گرفتاری کی خبریں آئی تھیں جبکہ مولانا قاری امین کے قاتل رنگے ہاتھوں پکڑے گئے جن کا تعلق بھی اُسی سیاسی جماعت سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ عباس ٹاؤن کی طرح ہمارے مقتولین کے ورثا کو بھی معاوضہ دیا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ انصاف کا حصول سب کا حق ہے۔ عدالت نے اورنگزیب فاروقی کی درخواست پر حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان مقتولین کے لواحقین کو معاوضہ کیوں نہیں ملنا چاہیے، اس معاملے کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے۔

عدالت نے بعد ازاں 16 اپریل تک سماعت ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں