کراچی:انتخابی مہم میں کہیں خوف تو کہیں جوش

Image caption کالعدم تحریکِ طالبان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا موسم روز بروز گرم ہوتا جا رہا ہے لیکن یہ گرمی تاحال انتخابی موسم میں نظر نہیں آ رہی جس کی بڑی وجہ دہشت گردی کے خطرات قرار دی جا رہی ہے۔

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے عوامی اجتماعات کو نشانہ بنائیں گے۔

انتخابات کے قریب آتے ہی تحریکِ طالبان نے کراچی کو نشانہ بنایا ہے اور ایک ہفتے کے دوران تنظیم کی جانب سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رہنما کے سکول کو نشانہ بنایا گیا اور پھر رینجرز کی گاڑی بم حملے کا نشانہ بنی۔

کراچی میں اب تک طالبان کی دھمکیوں اور حملوں کا زیادہ تر نشانہ عوامی نیشنل پارٹی ہی رہی ہے اور مزید حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر اے این پی کی قیادت نے یہاں روایتی عوامی جلسے نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق طالبان کی دھمکیوں نے عوامی نیشنل پارٹی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں ان کے ایک درجن سے زائد دفاتر بند ہوچکے ہیں جبکہ ان کے کئی اہم رہنما بھی کراچی چھوڑ چکے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے سیکرٹری جنرل بشیر جان نے بتایا کہ طالبان کی دھمکیوں اور خوف کی وجہ سے کراچی سمیت صوبے بھر میں روایتی جلسوں سے اجتناب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور ہم اپنے کارکنوں کی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔‘

تاہم انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی سندھ میں انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے لیے شہر کے کسی بھی مقام پر بڑا اجتماع نہیں ہوگا تاہم چھوٹی سطح پر کارنر میٹنگز ہوں گی جبکہ گھرگھر جا کر انتخابی مہم چلائی جائے گی۔

بشیر جان کے مطابق ان کی جماعت پر انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے غیر اعلانیہ پابندی لگ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد ٹاؤن میں ہلاک ہونے والے اے این پی رہنما رشید خان کو محض اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا تھا کہ ان کی وابستگی عوامی نیشنل پارٹی سے تھی اور وہ علاقائی سطح پر سماجی کاموں میں فعال تھے۔

وفاق اور سندھ میں گزشتہ پانچ برس حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی بھی دہشت گردی کے خدشات کی وجہ سے کراچی میں کھلے عام انتخابی مہم سے اجتناب برتتی دکھائی دیتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے ان خطرات کی وجہ سے ہی اس مرتبہ ان کی جماعت نے انتخابات سے پہلے عوامی جلسوں کے انعقاد سے اجتناب برتنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بڑے عوامی اجتماعات کے بجائے چھوٹے پیمانے پر کارنر میٹنگز پر توجہ مرکوز رکھے گی۔

پیپلز پارٹی کے برعکس اس کی سابق اتحادی اورگزشتہ الیکشن میں کراچی سے سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما واسع جلیل کا کہنا ہے انہیں طالبان کی دھمکیوں کی پرواہ نہیں اور ان کی جماعت بھرپور انداز میں اپنی انتخابی مہم جاری رکھے گی۔

واسع جلیل کے مطابق کراچی کے شہری ان حالات سے گھبرانے والے نہیں۔ جوں جوں انتخابات کا وقت قریب آئے گا ایم کیوایم عوامی رابطہ مہم میں حصہ لے گی۔

Image caption طالبان نے ایم کیو ایم اور اے این پی کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے

ایم کیو ایم کے علاوہ مسلم لیگ ن، جے یو آئی اور جماعت اسلامی بھی عوامی اور سیاسی اجتماعات کے حوالے سے پرجوش نظر آرہی ہیں۔

مسلم لیگ ن کراچی کے صدر نہال ہاشمی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ابھی تک سیاسی سرگرمیوں کا آغاز نہیں کیا ہے اور جوں ہی کاغداتِ نامزدگی کا معاملہ حل ہوجاتا ہے تو وہ کراچی میں عوامی قوت کا مظاہرہ کریں گے۔ ان کے مطابق ان کی جماعت کوکوئی خوف نہیں اور میاں نواز شریف سمیت ن لیگ کے مرکزی قائدین بھی کراچی میں اجتماعات سے خطاب کریں گے۔

نہال ہاشمی نے کہا کہ مسلم لیگ تنازعات سے دور ہے اور اس وقت ان کی پوری توجہ انتخابی عمل پر ہے۔

جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ وہ پرجوش انداز میں پورے ملک میں عوامی اجتماعات کریں گے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی اپنے تمام وسائل اور طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے انتخابی عمل میں حصہ لے گی۔

حافظ نعیم الرحمن کے مطابق سیاست میں دھمکیوں اور خوف کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔

شہر میں خوف اور جوش کے اس ماحول میں ووٹر کس طرف رخ کرتا ہے اس کے لیے سب کو گیارہ مئی کا انتظار ہے۔

اسی بارے میں