گیارہ ارکان کی اسناد جعلی نکلیں

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے 11 ارکان کی ڈگریوں کو جعلی قرار دے دیا ہے، جب کہ اس سے قبل ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب اسمبلی کے دو ارکان آمنہ الفت اور میاں شفع محمد کی ڈگریوں کو جعلی قرار دے چکا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ قومی وصوبائی اسمبلیوں کے 83 سابق ارکان کی تعلیمی اسناد درست ہیں۔

اب بھی 79 ایسے سابق قانون ساز ہیں جنھوں نے اپنی اسناد کی تصدیق کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے رجوع نہیں کیا ہے۔ ان میں مولانا گل نصیب، ظفر بیگ، مخدوم افتخار حسین گیلانی، اور میاں مٹھو شامل ہیں۔ موخر الذکر پر سندھ میں ہندو خواتین کو زبردستی مسلمان بنانے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن اور ہائر ایجوکیشن کی جانب سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال سپریم کورٹ کے حکم پر ہو رہی ہے۔

الیکشن کمیشن نے جن 11 ارکان کی تعلمی اسناد کو جعلی قرار دیا ہے ان میں سنیٹر ریحانہ بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے رہنما سردار اسرار زھری، سنیٹر محبت خان مری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کے دو بھائیوں کی اسناد بھی جعلی ثابت ہو گئیں۔ کمیشن نے کہا ہےکہ جن ارکان کی اسناد جعلی نکلی ہیں ان کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کیے جائیں گے۔

ہائرایجوکیشن نے جن امیدواروں کی اسناد کو درست قرار دیا ہے ان میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک، ن لیگ کے رہنما امیرمقام، پیرپگاڑا کے بھائی سیدصدرالدین، مہرین انور راجہ، جاوید ہاشمی، اطلاعات کے سابق وفاقی وزیرِ مملکت صمصام بخاری، قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر چوہدری نثارعلی خان ، سردار جمال خان لغاری اور فیصل صالح حیات شامل ہیں۔

19 ایسے ارکان ہیں جن کے ڈگریوں کے بارے میں جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔ ان میں پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد ووٹو، صدرآصف علی زرداری کی ترجمان رخسانہ بنگش، مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے رہنما سردار ثنااللہ زہری، ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے سندھ کے سابق وزیرخزانہ سید اسرار احمد اور سابق ایم پی اے نادیہ گبول شامل ہیں۔

اسی بارے میں