سرائیکی قوم پرست رہنما تاج محمد لنگاہ انتقال کر گئے

Image caption تاج لنگاہ نے ضیا الحق کے دور میں جیل بھی کاٹی

پاکستان کے سرائیکی قوم پسند سیاست دان اور پاکستان سرائیکی پارٹی کے سربراہ بیرسٹر تاج محمد لنگاہ انتقال گرگئے۔ ان کی عمر 72 برس تھی۔

بیرسٹر تاج محمد لنگا کو اتوار کی صبح دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

تاج محمد لنگاہ پنجاب کے علاقے کہروڑ پکا میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز پیپلز پارٹی سے کیا۔ وہ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل بھی رہے۔

تاج محمد لنگاہ نے 1970 میں عام انتخابات میں حصہ لیا اور وہاڑی کے علاقے سے ممتاز دولتانہ کا مقابلہ کیا، تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکے۔

پیپلز پارٹی سے علیٰحدگی کے بعد 80 کی دہائی میں پہلے وہ سرائیکی صوبہ محاذ اور پھر سرائیکی پارٹی کے سربراہ بن گئے۔ تاج محمد لنگاہ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم کا بھی حصہ رہے۔

تاج محمد لنگاہ نے سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں جیل بھی کاٹی اور ساہیوال جیل میں قید رہے۔

انہوں نے 2002 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا۔

تاج محمد لنگاہ نے سرائیکی صوبے کے قیام کے لیے تحریک شروع کی اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کے لیے دن رات کام کیا۔

ان کے ساتھ سیاسی جدوجہد میں حصہ لینے والے ان کے ساتھی سید حسن رضا بخاری کا کہنا ہے کہ تاج محمد لنگاہ کی زندگی مسلسل جدوجہد رہی ہے اور انھوں نے سرائیکی قوم کو پاکستان میں تسلیم کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاج محمد لنگاہ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے اور ان کا شمار ترقی پسند وکلا میں ہوتا تھا۔

قوم پرست سیاست دان سرائیکستان قومی موومنٹ کے سربراہ سید حمید اصغر شاہین کہتے ہیں کہ تاج محمد لنگا پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتے تھے اور انہوں نے پارلیمان کے ذریعے سرائیکی تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

تاج محمد لنگاہ 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لے رہے تھے اور پنجاب کے ضلع لودھراں سے قومی اسمبلی کے حلقہ 155 سے امیدوار تھے۔

تاج محمد لنگاہ نے پسماندگان میں ایک بیٹی سوگوار چھوڑی ہے۔

اسی بارے میں