کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا آخری دن

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا اتوار کو آخری دن ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر سے چوبیس ہزار چورانوے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

ان میں قومی اسمبلی کے لیے سات ہزار تین سو چونسٹھ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے سولہ ہزار سات سو تیس کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔

کاغذات نامزدگی کو رد یا قبول کرنے بارے میں الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کرنے کی حتمی تاریخ دس اپریل مقرر کی گئی ہے۔

انتخابی ٹربیونل 17 اپریل تک ان اپیلوں پر فیصلہ کرے گا جبکہ امیدواروں کو 18 اپریل تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی اجازت ہو گی۔

مکمل چھان بین کے بعد الیکشن کمیشن 19 اپریل کو انتخابی امیدواروں کی حتمی نظر ثانی شدہ فہرست شائع کرے گا جس پر11 مئی کو انتخابات کا انعقاد ہوگا۔

الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ملک میں اتوار کو تمام بینک رات بارہ بجے تک کھلے رہیں گے تاکہ امیدواروں کے واجبات سے متعلق معلومات فراہم کی جا سکیں اور امیدوار اپنے واجبات جمع کرا سکیں۔

دوسری جانب سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے کراچی کے حلقہ این اے 250 سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد جبکہ چترال کے حلقہ این اے 32 سے منظور ہو گئے ہیں۔

کراچی کے ریٹرننگ آفیسر کے بقول سابق صدر پر آئین سے انحراف اور ججوں کو نظر بند کرنے کے الزام ہیں اس لیے وہ انتخاب میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کراچی سے قومی اسمبلی حلقہ 250 سے امیدوار تھے اور سنیچر کو جماعتِ اسلامی کے سابق ضلعی ناظم نعمت اللہ خان نے ان کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا تھا۔

نعمت اللہ خان کے مطابق سابق فوجی صدر نے دو بار آئین توڑا ہے اس لیے وہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

اس سے پہلے جمعہ کو پنجاب کے علاقہ قصور کے ریٹر ننگ آفیسر نے جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ اتوار کو مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری نثار علی خان کے حلقہ این اے 52، سابق وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کے گجرات کے حلقہ این اے 106، پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے پشاور این اے 1 سے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں