ڈرون حملوں کے متعلق رپورٹ بے بنیاد ہے: پاکستان

Image caption صدر اوباما کے دور میں ڈرون کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے صحافی مارک مزیٹی کی کتاب کے اقتباسات پر مبنی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کا آغاز پاکستان کی فوجی قیادت کی مرضی سے 2004 میں ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ڈرون حملوں کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستانی فوج کی قیادت نے امریکی سی آئی اے کو جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر نیک محمد کو ڈرون حملے کے ذریعے ہلاک کرنے کی اجازت دی تھی۔

مارک مزیٹی کی اس کتاب کی رونمائی منگل کو ہو رہی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ رپورٹ ڈرون حملوں پر پاکستان کی واضح پوزیشن کے بارے میں انتشار پیدا کرنے کے پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم بار ہار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو ڈرون حملوں سے الٹا نقصان ہو رہا ہے اور یہ پاکستان کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری میں بھی آج ڈرون حملوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں بحث چل رہی ہے۔

خِیال رہے کہ پاکستانی حکام ان حملوں پر یہ کہہ کر تنقید کرتے رہے ہیں کہ یہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے شدت پسندی کو ہوا ملتی ہے۔ جبکہ امریکی حکام نجی طور پر کہتے ہیں کہ پاکستانی اور امریکی حکام میں اس کے متعلق تعاون ختم نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کے نقصان کے بارے میں تحقیقات کرنے والی اقوامِ متحدہ کی ٹیم کے سربراہ نے بھی مارچ میں کہا تھا کہ ان حملوں سے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق خصوصی نمائندے بین ایمرسن نے کہا تھا کہ پاکستان کی حکومت نے انھیں واضح طور پر بتایا تھا کہ حملوں میں ان کی مرضی شامل نہیں ہے، جبکہ امریکی حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں امریکی جاسوس ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے فروری میں امریکی سینیٹ کے سامنے اوباما انتظامیہ کی طرف سے گذشتہ چار برسوں میں القاعدہ کے خلاف جنگ کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے خاص طور پر مختلف ملکوں میں ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر توجہ مرکوز کی تھی۔

انھوں نے یہ بات واضح کی تھی کہ امریکی انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ اس کے پاس القاعدہ اور اس سے وابستہ طاقتوں کے خلاف اس صورت میں ہلاکت خیز طاقت استعمال کرنے کا قانونی جواز موجود ہے جب امریکہ کو فوری خطرہ لاحق ہو اور گرفتاری خارج از امکان ہو۔

لیکن امریکہ سے باہر صورتِ حال مختلف ہے۔ بقیہ دنیا ڈرون کے استعمال کی قانونی حیثیت کے آگے سوالیہ نشان لگاتی ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں، جہاں صدر اوباما کے دور میں ڈرون حملوں میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں