کاغذات نامزدگی پر اپیلوں کا مرحلہ شروع

پاکستان میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے لیے آج سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے مسترد ہونے یا منظور ہونے کے خلاف اپیلوں کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

پاکستان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ الیکشن شیڈول کے تحت کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اتوار کے روز ختم ہو گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی عام نشستوں کیلئے 24094 کاغذات نامزدگی موصول ہوئے تھے۔

ان میں قومی اسمبلی کے لیے سات ہزار تین سو چونسٹھ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے سولہ ہزار سات سو تیس کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔

کاغذات نامزدگی کو رد یا قبول کرنے بارے میں الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کرنے کی حتمی تاریخ دس اپریل مقرر کی گئی ہے۔

انتخابی ٹربیونل 17 اپریل تک ان اپیلوں پر فیصلہ کرے گا جبکہ امیدواروں کو 18 اپریل تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی اجازت ہو گی۔

اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے صوبہ پنجاب کے لیے پانچ ، صوبہ سندھ کے لیے دو اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیے ایک ایک ٹریبونل کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

مکمل چھان بین کے بعد الیکشن کمیشن 19 اپریل کو انتخابی امیدواروں کی حتمی نظر ثانی شدہ فہرست شائع کرے گا جس پر11 مئی کو انتخابات کا انعقاد ہوگا۔

اس سے قبل اتوار کے روز الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم نے تصدیق کی تھی کہ کمیشن نے نادرا، سٹیٹ بینک، قومی احتساب بیورو اور ایف بی آر کے تعاون سے تمام کاغذات نامزدگی کی پراسیسنگ کا عمل مکمل کرلیا ہے اور انہیں ریٹرننگ افسروں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے مرحلے میں ریٹرننگ افسران پر اس وقت تنقید ہوئی جب امیدواروں سے غیر ضروری سوالات پوچھے گئے۔

الیکشن کمیشن نے ملک بھر کے ریٹرننگ آفیسرز کو احکامات جاری کیے ہیں کہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران امیدواروں سے غیر ضروری سوالات نہ پوچھیں۔

الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز کو خطوط ارسال کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے عبوری فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

یاد رہے کہ جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ انتخابی امیدواروں سے غیر ضروری سوالات نہ کریں اور ٹی وی چینلوں کو کمرہ عدالت سے براہ راست کوریج کی اجازت نہ دیں۔

ہائی کورٹ نے یہ حکم آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور ترسٹھ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

اسی بارے میں