’یورپی مبصرپاکستان میں بلاخوف کام کریں گے‘

یورپی یونین کے مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں فضا سکیورٹی نقطۂ نظر سے سازگار نہیں، تاہم مبصرین کی کوشش ہو گی کہ وہ بلاخوف اپنا کام کریں۔

ملک میں آئندہ انتخابات کے دوران بطورمبصر تعینات ہونے والے یورپی یونین کے مشن کے سربراہ اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن مائیکل گاہلر نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انتخابات کے لیے اور مبصرین کے لیے مثالی صورتِ حال موجود نہیں ہے کہ وہ آزادانہ گھوم پھر سکیں، لیکن پھر بھی جمہوریت کے فروغ کے لیے وہ پاکستان میں موجود ہیں۔

ان کے ہمراہ ان کے مشن کی ڈپٹی ہیڈ ہانا رابرٹس اور اہم سفارتی حکام کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سکیورٹی کی خراب صورتِ حال اور مبصرین کی کم تعداد کی وجہ سے وہ بلوچستان اورفاٹا میں مبصر تعینات نہیں کرسکیں گے۔

مائیکل گاہلر نے کہا کہ مبصرین کی نگاہ بڑی تیز ہوتی ہے اور وہ اپنی جامع حکمت عملی کے تحت حالات پر نظر رکھیں گے کہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی کتنی آزادی ہے، کتنے فیصد لوگ پولنگ میں حصہ لے رہے ہیں، کتنے لوگوں نے امیدوار بننے میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا، کیا امیدوار بننے میں کسی قسم کی رکاوٹ تو نہیں، انتخابی مہم کس نوعیت کی تھی اوراس کو چلانے میں کوئی دشواری تو نہیں تھی اورسب سے اہم یہ کہ میڈیا نے اس اہم ایونٹ کی کیسے کوریج کی۔

مائیکل گاہلر کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے مبصرخود تو بلوچستان اور فاٹا میں نہیں جا رہے لیکن وہ انتخابات کے دوران نگرانی کے لیے مقامی مبصرین کے ساتھ بھرپور رابطے میں رہیں گے۔

بعض علاقوں میں عورتوں کو ووٹ کا حق نہ دینے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اب عورتوں کے ووٹ کی اہمیت کا احساس ہوچکا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی صحافیوں کی جانب سے بار بار سابق صدر پرویز مشرف اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے عمل کے بارے میں سوال اٹھایا گیا، تاہم مائیکل گاہلر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی اور نہ ہی مقامی قوانین کو کسی سے حق انتخاب چھیننا چاہیے، لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان میں اس عمل پرتبصرہ نہیں کریں گے۔

یورپی یونین کے 110 مبصرین نے 2008 میں پاکستان میں انتخابی عمل کی نگرانی کی تھی اوراب کی بار بھی اس کے اتنے ہی مبصر انتخابی عمل کو دیکھ کرانتخابات کے دو دن کے دوران ہی ایک رپورٹ مرتب کریں گے۔

ان مبصرین میں عین انتخابات کے روز ہی پاکستان پہنچنے والے یورپی پارلیمنٹ کے اراکین اور پاکستان میں یورپی ممالک کے سفیربھی شامل ہوں گے۔

اسی بارے میں