’ کرپشن کا خاتمہ اور احتساب یقینی بنائیں گے‘

Image caption اقتدار کے لیے نہیں بلکہ تبدیلی کے لیے سیاست میں آئے ہیں: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کرپشن کے خاتمے اور احتساب کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔

منگل کو اسلام آباد میں اپنی جماعت کے ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت اختیارات حقیقی معنوں میں دیہات کی سطح تک منتقل کرے گی اور مرکز میں صرف سترہ وزارتیں رکھی جائیں گی۔

ان کے بقول وہ ڈرون حملے رکوائیں گے اور امریکہ سمیت سب ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک نیا پاکستان بنائیں گے جو حقیقی معنوں میں ایک فلاحی اسلامی اور جمہوری ریاست ہوگی۔

انہوں نے پڑوسی ممالک سے برابری کی بنیاد پر پرامن اور دوستانہ تعلقات کے قیام کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے اور معاشرے میں برداشت اور تحمل کے فروغ کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کیا۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ وہ بڑے پیمانے پر مختلف شعبوں میں اصلاحات کریں گے۔’تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں گاؤں کی سطح پر لوگ خود فیصلہ کریں گے۔‘

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا نام لیے بنا ان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ان دونوں بڑی جماعتوں نے ادارے تباہ کیے ہیں اور یہ کبھی اچھی حکمرانی قائم نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے اتحاد نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ اقتدار کے لیے نہیں بلکہ تبدیلی کے لیے سیاست میں آئے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ وہ کسان اور مزدور دوست پالیسیاں بنائیں گے جس سے عام آدمی کو ریلیف ملے اور غربت کم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی کسی سیاسی جماعت نے پارٹی کے اندر انتخابات نہیں کرائے لیکن انہوں نے ایک نئی روایت ڈالی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ وہ ہر دفعہ الیکشن جیتنے والے امیدواروں کو ساتھ نہیں ملانا چاہتے اور نوجوانوں کو آگے لانا چاہتے ہیں۔ ’ہم اپنی جماعت کے پچیس فیصد سے زیادہ ٹکٹ پینتیس برس تک کے نوجوانوں کو دیں گے۔‘

اس موقع پر تحریک انصاف کے مختلف رہنماؤں نے اپنی جماعت کے منشور کے مختلف موضوعات پڑھ کر سنائے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ان کی جماعت ایک آزاد خارجہ پالیسی بنائےگی جس میں پارلیمان کا مرکزی کردار ہوگا۔

عمران خان کے ایک اور ساتھی نے پاکستان کے اندر امن و امان کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ شدت پسندوں کی حمایت کرنے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ نے اپنی جماعت کے منشور میں جو کچھ کہا ہے وہ بظاہر تو سب اچھا ہے لیکن پاکستان جیسے ممالک میں اس پر عملدرآمد کرنا ان کے لیے بہت بڑا چیلینج ہوگا۔

اسی بارے میں