لاہور:ضلعی حکومت سے بسنت منانے کی اجازت طلب

Image caption پنجاب میں بسنت کا تہوار آخری بار دو ہزار نو میں منایا گیا تھا

پاکستان کے شہر لاہور میں پتنگ سازی کی تنظیم کے عہدیداروں نے بسنت منانے کے لیے ضلعی حکومت کو باقاعدہ درخواست دے دی ہے تاہم شہری حکومت کی طرف سے ابھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

پتنگ سازی کی تنظیم نے لاہور میں تیرہ اور چودہ اپریل کو بسنت منانے کی اجازت مانگی ہے۔

پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ نجم سیٹھی اپنے عہدہ سنبھالنے کے چند دن بعد اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ صوبے میں بسنت کا تہوار منایا جانا چاہیے۔

لاہور کی ضلعی حکومت نے اس سال پتنگ بازی کی اجازت دینے کے سلسلے میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی تاہم یہ کمیٹی کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہی ۔

پنجاب میں آخری مرتبہ بسنت کا تہوار سنہ دو ہزار نو میں اس وقت منایا گیا تھا جب صوبے میں گورنر راج نافذ تھا۔

پتنگ بازی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل یہ تہوار موسم بہار کی آمد کے موقع پر ہر سال منایا جاتا تھا تاہم بسنت کے موقع پر دھاتی تار اور کیمیکل ڈور کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث حکومت نے چند برس قبل بسنت کے تہوار اور اس موقع پر پتنگیں اڑانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

نگراں وزیر اعلیٰ کی جانب سے بسنت منانے کا اشارہ دینے کے بعد پتنگ بازوں میں پھر یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اس سال بسنت منائی جائے۔

پتنگ سازی کی مقامی تنظیم کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے ضلعی سربراہ سلیم شیخ نے کہا کہ رٹ قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو چاہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس کے بعد بسنت کا تہوار منایا جا سکے۔

سلیم شیخ نے کہا کہ اگر لاہور میں بسنت نہیں کرا سکتی تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوگا کہ نگراں حکومت پورے صوبے میں عام انتخابات کرا سکے۔

پتنگ بازی کی تنظیم ضلعی سربراہ کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی نے پتنگ بازی کے بارے میں قانون بنایا تھا اور یہ قانون عدالتی کی ہدایات کی روشنی میں بنا تھا ۔ ان کے بقول اس قانون پر عمل درآمد نہ کرنا خود توہین عدالت ہے۔

تنظیم کے سربراہ نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر ملک میں موبائل فون کی سروس دو دن کے لیے بند ہوسکتی ہے تو پھر بسنت کا تہوار منانے کے لیے دو دنوں کے موٹر سائیکل پابندی کیوں نہیں لگائی جا سکتی۔

جہاں شہریوں نے پتنگ بازی کی اجازت مانگی وہیں اس کے مخالفت کرنے والے بھی اس کی مشروط اجازت دینے کی بات کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کے مطابق بسنت کے اجازت دینے سے پہلے موثر اقدامات ہونے چاہیئیں۔

اسی بارے میں