مشرف کو حراست میں لینے کی استدعا مسترد

احمد رضا قصوری وکیل
Image caption عدالت کو اتنی جلدی کیوں ہے: جنرل مشرف کے وکیل کا عدالت سے سوال

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی درخواست کی ابتدائی سماعت میں درخواست گزاروں کی جانب سے انہیں حراست میں لینے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ درخواستوں کی سماعت کے موقع پر پرویز مشرف کو ذاتی حثیت میں عدالت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں اور وہ سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔

سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ میں احمد رضا قصوری پیش ہوئے اور کہا کہ یہ درخواستیں بدنیتی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان درخواستوں کا مقصد ان کے موکل کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا ہے۔

انہوں نے اپنے موکل کے خلاف دائر درخواستوں کا جائزہ لینے اور ان کا تفصیلی جواب دینے کے لیے ان درخواستوں کی سماعت بیس مئی تک کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی جس سے عدالت نے اتفاق نہیں کیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق فوجی صدر کے خلاف ملکی آئین توڑنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت منگل کو بھی جاری رکھی۔

احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ عدالت کو ان درخواستوں کو نمٹانے کی اتنی جلدی کیوں ہے جس پر بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین نومبر 2007 کے اقدامات کے متعلق فیصلہ تین سال پرانا ہے اور ابھی بھی کہا جا رہا ہے کہ عدالت کو اتنی جلدی کیوں ہے؟۔

سابق صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پی سی او ججز کیس میں بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو نوٹس جاری کیوں نہیں کرتی؟ جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ان درخواستوں میں جنرل کیانی کو فریق نہیں بنایا گیا۔

احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ انصاف صرف اعلان کی حد تک نہیں بلکہ انصاف ہوتا ہوا بھی نظرآنا چاہیے۔

سابق صدر کے وکیل نے کہا کہ اگر یہ معاملہ کھلا تو بات بہت دور تک جائے گی اور اس میں کئی پردہ نشینوں کے بھی نام آئیں گے اور ایک پنڈروہ بکس بھی کھل جائے گا جسے بند کرنا شاید بہت مشکل ہو۔

جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ کن پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں عدالت تو صرف قانون کے مطابق ہی ان درخواستوں پر فیصلہ دے گی۔

احمد رضا قصوری نے مزید کہا کہ ان کے موکل کو اس بینچ پر تحفظات ہیں۔ جس پر عدالت نے کہا کہ وہ دلائل دیں اور اگر وہ ان دلائل سے مطمئن ہوئے تو چیف جسٹس سے درخواست کریں گے کہ بینچ تبدیل کردیا جائے۔

فیڈریشن کی جانب سے اٹارنی جنرل یا ان کا کوئی بھی نمائندہ عدالت میں پیش نہیں ہوا جس کے بعد ان درخواستوں کی سماعت پندرہ اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعے کو پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست ابتدائی سماعت کے لیے منظور کی تھی اور اس ضمن میں پانچ درخواستوں کو یکجا کیا گیا ہے۔

پرویز مشرف کے تین نومبر 2007 کے اقدامات کے تحت عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والے اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے گئے تھے جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ میں کورکمانڈرز کو نوٹس جاری کرنے کا معاملہ ابھی بھی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے پاس ہے۔

اسی بارے میں