تیراہ: 23 اہلکاروں سمیت 130 سے زائد ہلاک

Image caption تیراہ کی سرحدیں تین قبائلی علاقوں خیبر، اورکزئی اور کُرم سے ملتی ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادئ تیراہ میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ پانچویں دن میں بھی جاری رہا ہے۔

پاکستانی فوکے شعبۃ تعلقاتِ عامہ کے مطابق اب تک آپریشن کے دوران تئیس سیکیورٹی اہلکار اور ایک سو دس سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ جھڑپیں تیراہ میں زخہ خیل اور اکا خیل قبیلوں کے درمیان واقع سرحدی علاقے مستک کے قریب ہو رہی ہیں جہاں مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مورچے قائم کیے ہیں جبکہ دونوں قبیلوں کے پہاڑی علاقوں میں شدت پسند موجود ہیں۔

سکیورٹی فورسز اس آپریشن میں بھاری اسلحے کا استعمال کر رہی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق منگل کو آپریشن کے پانچویں دن شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار اس علاقے میں پہلی مرتبہ داخل ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ اب تک شدت پسند تنظیموں کے قبضے میں تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق تیراہ میں کالعدم تنظیموں لشکر اسلام اور تحریک طالبان کے خلاف سیکیورٹی فورسز نے پانچ روز پہلے ایک فوجی کارروائی شروع کی ہے ۔ اس کارروائی میں فضائی بمباری بھی کی گئی ہے ۔ انصار الاسلام نامی تنظیم سکیورٹی فورسز کے ہمراہ علاقے میں سرگرم ہے۔

وادی تیراہ خیبر ایجنسی کا ایک دور افتادہ علاقہ ہے جس کی سرحدیں ایک طرف افغانستان اور دوسری جانب اورکزئی ایجنسی سے ملتی ہیں۔ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے اقوام متحدہ کے مطابق کوئی چالیس ہزار افراد نقل مکانی کرکے قدرے محفوظ علاقوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔

خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ تحصیل کے کچھ مقامات پر بھی فوجی آپریسن گزشتہ سال سے جاری ہے جس سے متاثر ہو کر کوئی اٹھائیس ہزار سے زیادہ خاندان نقل مکان پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان میں بیشتر متاثرہ خاندان اپنے طور پر یا رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں جبکہ کچھ خاندان نوشہرہ کے قریب جلوزیی کیمپ میں رہایش پزیر ہیں۔

اسی بارے میں