’سی این جی لائسنس کے اجرا میں بے ضابطگیاں ہوئیں‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بادی النظر میں سابق دور میں پانچ سو سے زائد سی این جی سٹیشنز کے لائسنس ضابطے کے خلاف جاری کیےگئے تھے۔یہ لائسنس وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے دور میں جاری کیے گئے جبکہ 2008 سے سی این جی سٹیشنز کی لائسنس کے اجرا پر پابندی عائد ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کسی بھی وزیر اعظم کے پاس کوئی بھی صوابدیدی اختیار نہیں ہے کہ وہ پابندی عائد ہونے کے باوجود اپنے من پسند افراد کو لائسنس جاری کرے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی جانب سے قواعد وضوابط سے ہٹ کر پانچ سو سے زائد سی این جی سٹیشن کو لائسنس جاری کرنے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا کے ڈائریکٹر ایڈمن نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران 525 افراد کو سی این جی سٹیشنز کے لائسنس جاری کیے گئے جبکہ یکم جنوری 2008 سے نئے لائسنس کے اجراء پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

انہوں کے کہا کہ اس وقت ملک میں 3395 سی این جی سٹیشنز کام کر رہے ہیں۔

اوگرا کے اہلکار کے بقول 2009 اور 2010 کے مالی سال کے دوران 301 لائسنس جاری کیے گئے جبکہ 2010 اور 2011 کے دوران 160 اور 2011 سے 2012 کے دوران 64 لائسنس جاری کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی جانب سے منطور کیےگئے 69 سی این جی سٹیشنز کو لائسنس جاری کرنے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ 2008 میں لائسنس کے اجرا پر پابندی کے باوجود اتنے لائسنس کیسے جاری کیے گئے؟ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی چاہے وہ کتنے بڑے عہدے پر ہی فائض کیوں نہ ہو؟

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کا معاملہ بھی سامنے ہے جنہوں نے مختلف منصوبوں میں قومی خزانے کو بیاسی ارب روپے کا نقصان پہنچایا اور اس کے بعد یہ نیا سکینڈل سامنے آیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اوگرا جو لائسنس اجرا کی مجاز ہے، کے حکام نے اس پابندی کے دوران جاری کیے جانے والے لائسنس کی منظوری کے ضمن میں پاس کی جانے والی سمری کو نگراں حکومت کے دور میں منظور کروا لیا جس سے ان کی بدنیتی واضح ہوتی ہے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق عدالت نے اوگرا سے ان افراد کے ناموں کی فہرست بھی طلب کر لی جنہیں سابق دور حکومت میں قواعد وضوابط سے ہٹ کر سی این جی کے لائسنس جاری کیے گئے تھے۔

اوگرا کے حکام کا کہنا تھا کہ چونکہ اس سیکٹر میں کثیر سرمایہ کاری ہوئی ہے اس سے ان افراد کو سی این جی کے لائسنس جاری کیے گئے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے کیے کمیشن تشکیل دیا جائے گا یا پھر کسی تحقیقاتی ادارے کو اس کی تحقیقات کرنے کے بارے میں کہا جائے گا۔

اسی بارے میں