قبائلی علاقوں میں ووٹروں کے مسائل

پاکستان کے قبائلی علاقے بھی گیارہ مئی کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر حصہ لیں گے تاہم امن عامہ کی خراب صورت حال کی وجہ سے بین الاقوامی مبصرین نے ان علاقوں میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ایسے میں مبصرین کے مطابق ان علاقوں میں شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کا ہدف ابھی ناممکن ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں 17 لاکھ ووٹرز تو ہیں تاہم امن عامہ کی خراب صورت حال اور طالبان کی مخالفت تو ایک بڑا چیلنج یقیناً ہے لیکن حکام کی جانب سے قبائلیوں کے لیے ووٹنگ کتنی آسان بنائی جا سکی ہے۔ کتنے قبائلی ووٹ کے اہل ہیں لیکن سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے حق رائے دہی استعمال کرنے سے قاصر رہیں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ قبائلی علاقوں میں اب بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جس نے کمپوٹرازڈ شناختی کارڈ کے حصول میں دشواری کی وجہ سے نہ تو کارڈ بنوایا اور نہ ہی ووٹ اور اس حوالے سے خواتین کا مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہے۔

ایسے کتنے ووٹرز ہوں گے؟ یہ سوال میں نے خیبر ایجنسی سے عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما ناہید رحمان کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ تعداد بتانا تو مشکل ہے لیکن یہ کافی بڑی تعداد ہے خصوصاً قبائلی خواتین کی۔

’ہمارا طریقۂ کار مشکل ہے کیونکہ ہم پہلے تحصیلدار، پھر اے پی اے اور پھر پی اے کی منظوری کے بعد شناختی کارڈ بنا سکتے ہیں۔ مردوں کو تو ملازمت کے لیے شناختی کارڈ بنانا پڑتا ہے لیکن خواتین کے لیے اسے ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا پرانا مطالبہ رہا ہے کہ نادرا کے موبائل یونٹ ہوں جو خواتین کو باآسانی شناختی کارڈ بنا کر دے سکیں‘۔

ناہید رحمان کے مطابق اس سال بھی شناختی کارڈ بنوانے اور ووٹ کا اندراج کروانے میں کافی تاخیر ہوچکی ہے تاہم ماضی میں کئی علاقوں میں مردوں نے خواتین کے ووٹ نہ بنوانے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے عورتیں اس سارے نظام سے باہر رہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما کہتی ہیں کہ جب تک اس کے خلاف قانون نہیں بنے گا ایسا ہوتا رہے گا۔

’جب تک انتخابی کمیشن قانون نہیں بناتا ایسا پہلے بھی ہوا ہے اب بھی ہوگا۔ اس مرتبہ ایک امید سیاسی جماعتوں کی آمد ہے جو چاہیں گی کہ خواتین بھی ووٹ ڈالیں‘۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں خواتین کے علاوہ مرد ووٹروں کے بھی مسائل کافی ہیں۔ نقل مکانی پر مجبور لاکھوں قبائلیوں کے علاوہ خود قبائلی ایجنسیوں میں آذادانہ نقل و حرکت بھی ایک مسئلہ ہے۔

جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل کے قریش خٹک کا کہنا تھا کہ پاکستان کا حلقہ بندیوں کا قانون قبائلی علاقوں کے ساتھ کافی ناانصافی کرتا ہے۔

’قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 47 چھ ایف آر ریجنز کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ یہ ایف آر پشاور سے شروع ہوکر جنوب میں ڈی آئی خان تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقے آپس میں ملے نہیں ہوئے اور کسی بھی امیدوار کے لیے ہر جگہ جانا کافی مشکل ہے‘۔

پاکستان کے قبائلی علاقے آج کل میڈیا اور سول سوسائٹی کے لیے نو گو ایریاز بنے ہوئے ہیں ایسے میں ووٹروں کو ان کے حقوق کے بارے میں معلومات دینا بھی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ قریش خٹک کہتے ہیں ’ بد قسمتی سے حکومت یا انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹروں کی آگہی کے لیے کوئی پروگرام شروع نہیں کیا گیا ہے جو انہیں ان کے حقوق اور ووٹ ڈالنے کی اہمیت بتا سکیں‘۔

اگرچہ سیاسی جماعتوں کو قبائلی علاقوں میں سرگرمیوں کی اجازت تو دے دی گئی ہے لیکن انہیں وہ ماحول نہیں دیا گیا ہے جس کے تحت سب جماعتوں کھل کر انتخابی مہم چلا سکیں جس کے باعث وہاں سے آنے والے نتائج ماضی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں