لیاری: کراچی کا ایک ’نوگو ایریا‘

Image caption کراچی پولیس لیاری میں کئی آپریشن کر چکی ہے

’لیاری میں اس وقت پولیس کی عملداری صرف ڈنڈے کے زور پر ہے‘۔

یہ اعتراف کراچی پولیس کے ترجمان عمران شوکت نے شہر کے اس علاقے کے بارے میں کیا جہاں حکومت کے بجائے جرائم پیشہ عناصر کی عملداری سمجھی جاتی ہے۔

سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران کئی مرتبہ کراچی کے نو گو ایریاز کا ذکر ہوا۔

پولیس نے عدالت کے سامنے کراچی میں بیالیس مقامات کے ان کے لیے نو گو ایریا ہونے کا اعتراف کیا اور لیاری ان علاقوں میں سے ایک ہے۔

عمران شوکت کا شمار ان پولیس افسروں میں ہوتا ہے جنہوں نے لیاری میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف تین آپریشن کیے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ لیاری کو نوگو ایریا سمجھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہاں کی تنگ و تاریک گلیاں جرائم پیشہ عناصر کے لیے فائدہ مند اور پولیس کے لیے نقصان دہ ہیں کیونکہ ان گلیوں کی بھول بھلیوں میں نہ تو پولیس موبائل داخل ہو سکتی ہے نہ ہی موٹر سائیکل سوار اہلکار گشت کر سکتے ہیں۔

پولیس کے ترجمان نے اعتراف کیا کہ وقت کے ساتھ جرائم پیشہ افراد کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے لیاری میں اپنی پوزیشن بہت مضبوط کر لی ہے اور جب بھی پولیس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہے تو شدید مزاحمت ہوتی ہے۔

انہوں نے نو گو ایریا کی وضاحت ایک ایسے علاقے کےطور پر کی جہاں حکومت کی رٹ نہ ہو، جہاں ایک مخصوص لسانی گروہ سے تعلق رکھنے والے طبقے کا قبضہ ہو اور دوسرے مکتبۂ فکر کے لوگ آزادانہ طور پر وہاں نہ تو گھوم پھر سکیں اور نہ ہی کاروبار کر سکیں۔

لیاری پاکستان کا قدیم علاقہ ہے جہاں زیادہ تر بلوچ مچھیرے آباد تھے اور آج اس علاقے کی آبادی تقریبا سترہ لاکھ ہے۔ سوال یہ ہے کہ لیاری بلوچ مچھیروں کی بستی سے ایک نوگو ایریا میں کیسے بدلا؟

پولیس ریکارڈ کے مطابق لیاری لیاری میں انڈر ورلڈ مافیا کی شروعات منشیات فروشی سے جڑے دو بھائی داد محمد عرف دادل، شیر محمد عرف شیرو اور ان کے مخالف کالا ناگ کے درمیان لڑائی سے شروع ہوئی ۔

اس لڑائی کو داد محمد عرف دادل کے بیٹے رحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت اور اس کے مخالف ارشد پپو نے جاری رکھا۔ کراچی پولیس کے ترجمان عمران شوکت کا کہنا ہے کہ ان دونو ں گروہوں نے لیاری کے بیس فیصد حصے پر اپنے پنجے گاڑ دیے تھے۔

’رحمان ڈکیت اور ارشد پپو، ان دونوں گروہوں نے اپنے علاقوں کی حدود کا تعین کر رکھا تھا جہاں یہ آمنے سامنے ہوتے تھے اور اگر کوئی دوسرا جاتا تو اسے مار دیتے تھے۔ دونوں گروہوں نےلیاری میں اپنی پناہ گاہیں بنا رکھی تھیں جہاں یہ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان ، قتل اور مختلف جرائم میں ملوث تھے‘۔

Image caption پولیس ترجمان کے مطابق لیاری کی تنگ و تاریک گلیاں جرائم پیشہ عناصر کے لیے فائدہ مند اور پولیس کے لیے نقصان دہ ہیں

لیاری گینگ وار کے پہلےمرکزی کردار رحمان بلوچ دو ہزار آٹھ میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئےجبکہ ارشد پپو بھی گزشتہ دنوں مخالف گروہ سے تصادم کے دوران ہلاک ہوگئے۔

مگر ان دونوں کی ہلاکت سے بھی گینگ وار ختم نہیں ہوئی کیونکہ اب لیاری میں رحمان بلوچ کے جانشین اور کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کی بے تاج حکمرانی نظر آتی ہے۔

پولیس انہیں بھی گینگسٹر سمجھتی ہے جس کا اعتراف خود عزیر بلوچ نے ان الفاظ کے ساتھ کیا ’میرے اوپر کوئی سو کے قریب کیسز ہیں اور تیس لاکھ روپے میرے سر کی قیمت مقرر کی گئی‘۔

ان کے کیسز میں اقدام قتل، قتل، اغوا برائے تاوان، ناجائز اسلحہ، پولیس سے مقابلہ، پولیس اہلکاروں پر حملے سمیت دوسرے مقدمات شامل ہیں مگر عزیر بلوچ کے مطابق وہ خود لیاری گینگ وار کا شکار رہے ہیں۔

کراچی پولیس لیاری میں کئی آپریشن کر چکی ہے مگر کبھی بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی۔

کراچی پولیس کے ایس ایس پی اسلم خان نے لیاری کے ’ نو گو ایریا‘ میں کئی مرتبہ آپریشن کیے۔ جن میں دو ہزار گیارہ کا چیل چوک کا بے نتیجہ آپریشن بھی شامل ہے۔آٹھ روز تک جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ لڑائی کے بعد اچانک پولیس نے آپریشن ختم کر دیا جس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔

ایس ایس پی اسلم نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے لیاری میں ٹارگٹڈ چھاپے مارے جس کی وجہ سے وہاں لڑائی بڑھ گئی تھی مگر جو اہداف مقرر کیے تھے انہیں حاصل کر لیا ،کئی ہیڈ منی والے مجرموں کو اور مجموعی طور پر پینسٹھ لوگوں کو پکڑا گیا۔

Image caption پولیس نے نو گو ایریا کی وضاحت ایک ایسے علاقے کےطور پر کی جہاں حکومت کی رٹ نہ ہو

سینیئر صحافی قیصر محمود سمجھتے ہیں کہ لیاری کو نوگو ایریا بنانے کی اصل ذمہ دار سیاسی جماعتیں ہیں جو لیاری میں اپنی سیاسی برتری قائم رکھنے کے لیے ان گروہوں کو استعمال کر رہی ہیں۔

قیصر محمود کے مطابق ’لیاری میں جرم اور سیاست کے گٹھ جوڑ نے اب یہ صورتحال پیدا کر دی ہے کہ وقت کے ساتھ جرائم پیشہ گروہ سیاسی قوتوں پر حاوی ہوگئے ہیں اور اب نہ تو علاقے کی سیاسی جماعتیں وہاں جانے کی ہمت کر سکتی ہیں اور نہ ہی پولیس کی جرات کہ وہ ان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچا سکیں‘۔

لیاری میں رحمان بلوچ کے جانشین سمجھے جانے والے عزیر بلوچ کی آہنی گرفت کا اندازہ یہاں کی سڑکوں پر ہوتا ہے ۔مسلح گارڈز کی بندقوں کے سائے میں عزیر بلوچ کی سیاستدانوں جیسی شان و شوکت ہے۔ ایسے عناصر کی شہر کے مختلف مقامات پر اجارہ داری ہی دراصل علاقے کو انتظامیہ کے لیے نوگو ایریا بناتی ہے۔

مگر پولیس کے مطابق صرف لیاری ہی کراچی کا نو گو ایریا نہیں بلکہ عدالت میں دی گئی رپورٹ کے مطابق شہر میں بیالیس مقامات ایسے ہیں جہاں پولیس نہیں جا سکتی۔

اسی بارے میں