شمالی وزیرستان:خواتین کی نمائندگی سب سے کم

فائل فوٹو، پاکستان الیکشن، خواتین ووٹر
Image caption پاکستان کے قبائلی علاقےگیارہ مئی کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر حصہ لیں گے

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فرسودہ قبائلی روایات کی وجہ سے خواتین کے ووٹوں کا اندراج دوسرے قبائلی علاقوں کی نسبت سب سے کم ہوا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق تمام قبائلی علاقوں میں کل ووٹوں کی تعداد سترہ لاکھ اڑتیس ہزار تین سو تیرہ ہے جس میں مرد ووٹروں کی تعداد گیارہ لاکھ بیالیس ہزار دو سو چونتیس جبکہ خواتین ووٹروں کی تعداد پانچ لاکھ چھیانوے ہزار انہتر ہیں۔

سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ نیم قبائلی علاقوں میں قومی اسمبلی کی بارہ نشستیں ہیں جس میں باجوڑ، خیبر، کُرم اور جنوبی وزیرستان میں دو دو جبکہ اورکزئی، مہمند، شمالی وزیرستان کی ایک ایک اور چھ نیم قبائلی علاقوں پر مشتمل ایف آر یعنی نیم قبائلی علاقوں کی ایک سیٹ شامل ہے۔

تاہم ان تمام قبائلی علاقوں میں خواتین ووٹرز کا سب سے کم اندراج شمالی وزیرستان میں ہوا ہے جہاں کل ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ چھپن ہزار پانچ سو اکانوے ہیں اور ان میں مرد ووٹر ایک لاکھ پینتالیس ہزار سات سو اٹھائیس جبکہ خواتین ووٹروں کی تعداد صرف دس ہزار آٹھ سو تریسٹھ ہے۔

شمالی وزیرستان سے متصل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے دو حلقوں میں کل ووٹروں کی تعداد دو لاکھ سات سو اُنہتر ہے جس میں بانوے ہزار سات سو تئیس مرد ووٹر ہیں جبکہ خواتین ووٹروں کی تعداد چھیاسٹھ ہزار تین سو بانوے ہے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان انتہائی شورش زدہ علاقے تصور کیے جاتے ہیں تاہم جنوبی وزیرستان میں خواتین ووٹرز کی زیادہ تعداد کی وجہ اس علاقے کے حلقہ این اے بیالیس سے محسود قبائل کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں نقل مکانی کر کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہونا ہے۔ نقل مکانی کی وجہ سے خواتین ووٹرز کو راشن اور امداد کے حصول کے لیے مردوں نے ان کے شناختی کارڈ بنوائے اور اسی بنیاد پر ان کے ووٹ کا اندراج ہوا۔

جنوبی وزیرستان کے حلقہ این اے اکتالیس میں وزیر قبائل آباد ہیں اور یہ ایجنسی دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ پْرامن ہے اور یہی وجہ ہے کہ خواتین کو شناختی کارڈ بنوانے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئی ہے۔

Image caption شمالی وزیرستان میں خواتین ووٹروں کی تعداد صرف دس ہزار آٹھ سو تریسٹھ ہے

شمالی وزیرستان کے حلقہ این اے تینتالیس سے امیدوار محمد قدیر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’شمالی وزیرستان میں سخت قبائلی روایات کی وجہ سے اکثر خواتین اپنے ووٹ کا اندراج کرانے سے قاصر ہیں۔میرانشاہ اور مضافاتی علاقوں میں خواتین کی شناختی کارڈ بنے ہوئے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں میں خواتین کی شناختی کارڈ نہ ہونے کے برابر ہیں‘۔

مقامی صحافی عمر دراز کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) کا دفتر سکاؤٹس فورسز کے قلعے کے نزدیک واقع ہے اور اس تک پہنچنا ایک مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ نادرہ آفس پہنچنے کے لیے راستے میں سکیورٹی فورسز کی دو چیک پوسٹیں آتی ہیں جن پر تلاشی لینے اور نام وغیرہ پوچھنے کے ایک سخت عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور اس وجہ سے لوگ وہاں جانا پسند نہیں کرتے۔

صحافی عمر دراز کے بقول جن خواتین کے شناختی کارڈ بنے ہیں وہ انہوں نے حج یا شہری علاقوں میں آنے جانے کی وجہ سے بنوائے ہیں اور حالات کی وجہ سے بعض علاقے ایسے ہیں جہاں خواتین کے شناختی کارڈ تو دور کی بات مردوں نے بھی شناختی کارڈ نہیں بنوائے ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان اور کئی دوسرے شدت پسند گروپ سرگرم ہیں جس کی وجہ سے سرکاری املاک اور دوسرے اداروں کے قریب سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقےگیارہ مئی کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر حصہ لیں گے۔

اسی بارے میں