’خلافِ ضابطہ سی این جی لائسنس کی تحقیقات‘

Image caption اس از خودنوٹس کی سماعت 15 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے کو سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں پابندی کے باوجود جاری کیے جانے والے پانچ سو سے زائد سی این جی سٹیشن کے لائسنسوں کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں اوگرا یعنی آئل اینڈ ریگولیشن اتھارٹی سے ریکارڈ قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اُن افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جنھوں نے سابق وزرائے اعظم کو حقائق بتائے بغیر سی این جی سٹیشنوں کے ان لائسنسوں کے اجرا میں کردار ادا کیا۔

جمعہ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے دور میں پانچ سو سے زائد کمپرسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے لائسنس کے اجرا سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

اوگرا کی طرف سے ایسے گیس سٹیشنوں کی معلومات عدالت میں فراہم نہ کی جا سکیں جن کے لائسنس خلافِ ضابطہ جاری کیے گئے تھے۔

عدالت نے اوگرا کے اہلکاروں سے استفسار کیا کہ سنہ 2008 سے سی این جی لائسنسوں پر پابندی تھی تو پھر کس طرح پانچ سو سے زائد لائسنس جاری کیے گئے اور جاری کیے جانے والے ان لائسنسوں کی منظوری نگراں حکومت کے دور میں پانندی اُٹھانے کے بعد کروائی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں اس میں اوگرا اور وزارتِ پٹرولیم کے افسران کی ملی بھگت دکھائی دیتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک میں لوٹ مار مچی ہوئی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت کا مقصد کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا یا اُن کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ ملکی دولت کو واپس لانا ہے جو بےدریغ لوٹی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے متعقلہ ریکارڈ پیش نہ کرنے پر اوگرا کے اہلکار معظم خان کی سرزنش کی اور کہا کہ عدالتی احکامات نہ ماننے پر اُن کے خلاف مناسب وقت پر کارروائی کی جائے گی۔ اس از خودنوٹس کی سماعت 15 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں