پرویز مشرف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی اعلی عدالتوں کے ججوں کو حبسِ بےجا میں رکھنے سے متعلق حفاظتی ضمانت میں چھ روز کی توسیع کر دی ہے۔ اس سے پہلے سندھ ہائی کورٹ نے انہیں اس مقدمے کے علاوہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی کے قتل میں حفاظتی ضمانت دی تھی۔

عدالت نے پرویز مشرف کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے اور آئندہ سماعت پر خود پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔

پرویز مشرف کے خلاف 2009 میں اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں تین نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان کے چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا اور عدالت نے اس مقدمے میں انھیں اشتہاری قرار دینے سے متعلق کارروائی شروع کی تھی۔

سابق آرمی چیف کی جمعے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر عمارت کے اردگر غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو کمرۂ عدالت اور ہائی کورٹ کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے پرویز مشرف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کے ضمن میں دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت کی۔

سابق فوجی صدر کے وکیل قمر افضل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل چونکہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اس لیے ان کی حفاظتی ضمانت میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔ عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

عدالت نے ملزم کے وکیل سے کہا کہ وہ حفاظتی ضمانت یا ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں کیوں نہیں گئے، جس پر انھوں نے کہا کہ غیر معمولی حالات کی وجہ سے وہ سیشن کورٹ میں نہیں جا سکے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آئندہ سماعت پر ملزم کے وکیل عدالت کو اس بات پر مطمئن کریں گے کہ ایسے کون سے حالات تھے جن کی وجہ سے وہ اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں نہیں جا سکے۔

عدالت نے پرویز مشرف کی حفاظتی ضمانت میں 18 اپریل تک کی توسیع کر دی ہے اور آئندہ سماعت پر پرویز مشرف کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے اس مقدمے میں وفاق کو نوٹس بھی جاری کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج شوکت عزیز صدیقی عدلیہ بحالی کی تحریک میں پیش پیش رہے ہیں اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور کچھ دنوں کے لیے حوالات میں بھی رکھا۔

پرویز مشرف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور دو سو سے زائد رینجر کے اہلکاروں کے علاوہ پولیس کے اہلکار بھی تعینات تھے۔

سابق آرمی چیف کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ان کی رہائش گاہ چک شہزاد سے اسلام آباد ہائی کورٹ تک ’روٹ‘ لگایا گیا تھا اور سٹرک کے دونوں اطراف پولیس اہلکار تعینات تھے۔ پیشی کے موقع پر وکلا نے پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کی جب کہ سابق فوجی صدر کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے کارکن بھی موجود تھے جو اپنے لیڈر کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر ایک وکیل نے پرویز مشرف کی جانب جوتا پھینکا تھا تاہم بعدازں اُس وکیل کو سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

اسی بارے میں