اپیل سننے سے انکار پر جج کے خلاف درخواست

Image caption الیکشن کمیشن کو دی جانے والی درخواست میں ٹربیونل کو تحلیل کرنے کی استدعا کی گئی ہے

پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے والے ٹربیونل کے رکن جسٹس خواجہ امتیاز کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے اور اس ضمن میں ایک درخواست دی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے خلاف درخواست پیپلز پارٹی کے رہنما اور نواز شریف کے مدمقابل امیدوار سہیل ملک نے الیکشن کمیشن کو دی ہے۔

سہیل ملک نواز شریف کے خلاف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بیس سے امیدوار ہیں اور انہوں نے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے فیصلے کو اپیل کے ذریعے چیلنج کیا ہے۔

سہیل ملک کے وکیل میاں حنیف طاہر کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خواجہ امتیاز پر مشتمل دو رکنی الیکشن ٹربیونل نے نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف دائر کی جانے والی اپیلیں کو اس بنیاد پر سننے سے انکار کردیا تھا کہ وہ نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں اس لیے اس پر سماعت کرنا مناسب نہیں ہے۔

میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ کے مطابق جسٹس خواجہ امتیاز کی سربراہی میں قائم ٹربیونل نے آج بھی نواز شریف کے خلاف پچیس اپیلیں سننے سے انکار کردیا جن میں ان کے موکل کی اپیل بھی شامل تھی البتہ جسٹس خواجہ امتیاز نے نواز شریف کے خلاف سید اقتدار حیدر اور قاری اشفاق کی اپیلوں کو ناقابل سماعت ہونے کی بنیاد پر خارج کردیا۔

وکیل کے مطابق جسٹس خواجہ امتیاز نے دوہرا معیار اپنایا ہے جو بقول ان کے خلاف قانون ہے۔

میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو کے عباد الحق کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کو دی جانے والی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جسٹس خواجہ امتیاز کی سربراہی میں قائم ٹربیونل کو تحلیل کر کے انہیں ٹربیونل سے الگ کردیا جائے۔

ادھر مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف ، ان کے بھائی شہباز شریف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے کاغذات نامزدگی کے خلاف جن اپیلوں پر ٹربیونل نے سماعت سے انکار کیا تھا انہیں الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا گیا ہے تاکہ انہیں سماعت کے لیے دوسرے ٹربیونل میں بھیجا جاسکے۔

لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل نے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل پر اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو سولہ اپریل کو معاونت کے لیے طلب کیا ہے۔

جنرل مشرف کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کسی عدالت سے سزا یافتہ نہیں ہیں اس لیے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ درست نہیں ہے۔

اسی بارے میں