پشاور:انتخابات کے لیے سکیورٹی کی منصوبہ بندی

فائل فوٹو
Image caption صوبہ خیبرپختونخوا میں پرامن عام انتخابات کا انعقاد حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کے دوران حفاظتی انتظامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور امیدواروں کو پانچ ذاتی مسلح محافظ رکھنے کی اجازت ہوگی۔

پشاور میں پولنگ سٹیشنز کی حفاظت کے لیے سات ہزار پولیس اہلکار تعینات ہوں گے۔

فوج اور نیم فوجی دستے کے اہلکار اس کے علاوہ ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بم دھماکوں اور دو امیدواروں پر حملے کے بعد حفاظتی انتظامات بہتر کرنے کے لیے ان دنوں اعلیٰ حکام سر جوڑ کر منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

یہ منصوبہ بندی انتخابی مہم اور سے لے کر انتخابات کے انعقاد تک کی جا رہی ہے۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار کو اعلیٰ پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ صرف پشاور شہر میں نو سو اکیاسی پولنگ سٹیشنز پر سات ہزار پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ فوج اور نیم فوجی دستے کے اہلکار اس کے علاوہ ہوں گے۔

فوج اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کی تعیناتی اور ان کا کیا کردار ہو گا اس بارے میں اب تک کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انتخابات کے ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو پانچ ذاتی مسلح محافظ رکھنے کی اجازت ہو گی اور ان کے پاس لائسنس والا اسلحہ ہوگا۔ حکومت کی جانب سے کسی امیدوار کی ذاتی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار نہیں دیے جائیں گے۔

سابق صوبائی وزراء اور اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی سے سرکاری محافظ واپس لے لیے گئے ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

سابق دور میں صوبائی وزارء کے حفاظت کے لیے بھاری تعداد میں مسلح گارڈز تعینات تھے۔

انتخابات کے لیے امیدواروں کی مہم شروع ہونے کے بعد سے خیبر پختونخوا میں خاص طور پر پشاور میں بم دھماکوں اور امیدواروں پر حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

دو ہفتے پہلے بنوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار عدنان وزیر اور پھر چند روز پہلے پشاور کے مضافات میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ارباب ایوب جان اور ارباب عثمان کی گاڑی کے قریب دھماکے سے حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی ادارے ان حملوں کے بعد حفاظتی انتظامات بہتر کرنے پر توجہ دے دی ہے۔

پشاور میں ایک ہزار کے لگ بھگ پولنگ سٹیشنز میں سے چھ سو کے لگ بھگ پولنک سٹیشنز حساس اور انتہائی حساس قرار دیے جا چکے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ان پولنگ سٹیشنز میں بعض دہشت گردی کے حوالے سے حساس ہیں تو کہیں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کا خطرہ ہے جبکہ کچھ پولنگ سٹیشنز ذاتی دشمنیوں کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اندازے کے مطابق پشاور شہر میں چار سو کے لکگ بھگ پولنگ سٹیشنز حساس نہیں ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کو اگر دیکھا جائے تو ہزارہ ڈویژن کے علاوہ صوبے کے باقی شہر حساس اور انتہائی حساس ہوں گے۔

اسی بارے میں