کاغذاتِ نامزدگی: اپیل ٹربیونل تبدیل

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہونے کے خلاف دائر کی جانے والی اپیلوں کو ایک ٹربیونل سے دوسرے ٹربیونل میں منتقل کر دیا ہے۔

اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خواجہ امتیازاحمد کی سربراہی میں قائم ٹربیونل نے ان اپیلوں کی سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

نوازشریف کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کیے جانے پر ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار سہیل ملک اور دیگر افراد نے ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل سے رجوع کر رکھا ہے۔

سہیل ملک کے وکیل میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ کے مطابق اب ان اپیلوں پر سماعت پندرہ اپریل کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ناصر سعید شیخ اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ٹربیونل کے روبرو ہوگی۔

ریٹرننگ آفیسر نے نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف اعتراضات مسترد کرتے ہوئے انہیں عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دیا تھا۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ایف بی آر یعنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو حکم دیا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لینے والے ٹیکس نادہندہ امیدواروں کے نام الیکشن کمیشن کو فراہم کرے۔

ہائی کورٹ کے بنچ نے یہ حکم آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر عمل درآمد کے لیے دائر کی جانے والی درخواست پر سماعت کے دوران دیا۔

فل بنچ نے ایف بی آر کو یہ ہدایت کی ٹیکس نادہندہ امیدواروں کا تمام ریکارڈ تین ہفتوں میں الیکشن کمیشن کو دینے کے علاوہ ویب سائٹ پر بھی جاری کیا جائے۔

ہائی کورٹ کے بنچ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ یوٹیلیٹی بلوں کے نادہندہ امیدواروں کے نام کے بارے میں ریکارڈ پندرہ اپریل کو بنچ کے روبرو پیش کیا جائے۔

اس سے پہلے ایف بی آر کے نے لاہور ہائی کورٹ کے بنچ کو بتایا کہ سوائے زرعی ترقیاتی بینک کے کسی دوسرے بینک نے اپنے انہیں ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔

اسی بارے میں