سابق وزیر اعظم، صدر کی اپیلیں مسترد

پاکستان میں آئندہ انتخابات کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور ہونے کے خلاف اپیلوں کے مرحلے میں الیکشن ٹریبونل نے جمشید دستی کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دیا ہے جبکہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق صدر پرویز مشرف کو نااہل قرار دے دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ کے الیکشن ٹریبونل نے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔

ٹریبونل نے یہ حکم راجہ پرویز اشرف کی اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دیا جو سینیٹر فاروق ایچ نائیک کے توسط سے دائر کی گئی تھی۔

راجہ پرویز اشرف اپنے آبائی علاقے گوجر خان کے قومی اسمبلی کے حلقہ اکیاون سے امیدوار تھے تاہم ریٹرننگ آفیسر نے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔

سابق وزیر اعظم نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کو اپیل کے ذریعے ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا اور اپیل میں استدعا کی تھی کہ ریٹرننگ آفیسر کو کالعدم قرار دے کر ان کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جائیں۔

الیکشن ٹریبونل نے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی اپیل سماعت مکمل ہونے کے بعد اس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا اور رات کو ٹریبونل فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم کی اپیل مسترد کردی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ راجہ پرویز اشرف الیکشن ٹریبونل کے خلاف اعلیْ عدلیہ سے رجوع کرسکتے ہیں۔

سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو براہ رست سپریم کورٹ میں نہیں بلکہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

ان کے بقول الیکشن ٹربیونل دو ججوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف درخواست کم از کم تین رکنی یا اس بڑا فل بنچ سماعت کرتا ہے۔

ڈاکٹر خالد رانجھا کے مطابق جب ہائی کورٹ کا فل بنچ کسی الیکشن ٹربیونل کے خلاف فیصلہ دیتا ہے تو پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نواز شریف کے مدمقابل امیدوار سہیل ملک کے وکیل حنیف طاہر ایڈوکیٹ نے بتایا کہ کاغدات نامزدگی کی منظوری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جائے جس کی سماعت تین رکنی فل بنچ کرے گا۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ کے الیکشن ٹریبونل نے پیپلز پارٹی کے سابق رہنما جمشید دستی کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔

ٹریبونل نے یہ حکم جمشید دستی کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے دیا ۔ اس سے پہلے ریٹرننگ آفیسر نے جمشید دستی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔

جمشید دستی این اے 177 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے والد نور ربانی کھر اور این اے 178 سے پیپلز پارٹی ہی کے نوابزادہ افتخار احمد خان کے خلاف مخالف امیدوار ہیں۔

جمشید دستی کے وکیل شیخ جمشید حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے موکل کے کاغذات نامزدگی جعلی ڈگری کے مقدمہ میں قید اور جرمانے کی سزا کی وجہ سے مسترد ہوئے تھے۔

جمشید دستی کو چار اپریل کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا تھا اور ان کو تین سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی۔

وکیل کے مطابق لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ نے اس سزا کو کالعدم قرار دے دیا اور اب وہ بیناد ختم ہوگئی ہے جس کی بناء پر جشمید دستی نااہل ہوئے تھے۔

شیِخِ جمشید حیات کا کہنا ہے کہ ٹریبونل نے ان کے موکل کی سزا ختم ہونے پر انہیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دیا ہے۔

ادھر سندھ ہائی کورٹ کے لیکشن ٹریبونل نے پرویز مشرف کی اپیل مسترد کردی اور ریٹرننگ آفیسر کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت سابق فوجی صدر کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔

پرویز مشرف کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ کے لیے امیدوار تھے۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر امتیاز صفدر وڑائچ کی اپیل منظور کر لی ہے ۔ ان کے کاغذات نامزدگی گوجرنوالہ کے رینٹرننگ آفیسر نے مسترد کیے تھے۔

لاہور ہائی کورٹ کا الیکشن ٹربیوبل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل پر منگ کو سماعت کرے گا۔

اسی بارے میں