کراچی میں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ

Image caption گزشتہ برس دو ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کیا گیا تھا جبکہ اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران 728 افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔

سپریم کورٹ آج کل کراچی بدامنی کیس کی سماعت کررہی ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران بڑی بڑی فائلوں کے ساتھ ہر پیشی پر عدالت کے روبرو کھڑے ہوتے ہیں۔

حکام جرائم کے اعداد و شمار اور اس پر قابو پانے کے بارے میں کیے جانے والے اقدامات سے عدالت کو آگاہ کرتے نظر آتے ہیں۔

ان اعداد و شمار میں اغوا برائے تاوان کا ذکر اب تک نہیں آیا یا اس پر توجہ ہی نہیں دی گئی۔ حالانکہ کراچی میں گزشتہ برس 132 افراد کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا جبکہ اس برس پہلے تین ماہ کے دوران سینتالیس افراد کو تاوان کے لیے اغواء کیا جاچکا ہے۔

پولیس اور سیٹیزن پولیس لیاژان کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس اغواء برائے تاوان کے کیسز میں قلیل مدتی اغوا یعنی short -term kidnapping کی وارداتیں زیادہ ہورہی ہیں۔

سی پی ایل سی کا ادارہ اغوا برائے تاوان کے کیسوں کو حل کرنے میں ایک جانب پولیس اور دوسری جانب اغوا ہونے والے شخص کے اہلِ خانہ کی مدد کرتا ہے۔

سی پی ایل سی کے سربراہ احمد چنائے کا کہنا ہے کہ قلیل مدتی اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ایک شخص پر نظر رکھی جاتی ہے اور اس کے بارے میں جاننے کے بعد اسے اس کی گاڑی سمیت اغوا کیا جاتا ہے اور شہر کی سڑکوں پر گھمایا جاتا ہے۔

ان کے بقول اسی دوران اغوا کنندہ کے موبائل فون کے ذریعے اس کے اہلِ خانہ سے تاوان کی رقم طلب کی جاتی ہے اور رقم ملنے کی صورت میں اغوا کیے جانے والے شخص کو آزاد کردیا جاتا ہے۔

اس تمام کارروائی میں کوئی چار سے چھ گھنٹے لگتے ہیں اور اب تک کے کیسوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسی وارداتوں میں ہر ایک کیسں میں دو لاکھ سے بیس لاکھ تک کی رقم وصول کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کو تیار کرنا اس وقت ممکن ہوتا ہے جب لوگ کیس کو پولیس میں رپورٹ کرتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی بھی کافی تعداد ہے جو کیس رپورٹ ہی نہیں کرتے۔ کیس رپورٹ نہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جو ہونا تھا ہوگیا اب پولیس اور تھانوں کے چکر لگانے کا کیا فائدہ۔

صرافہ مارکیٹ میں اعظم (اصل نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست) کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ دکان بند کر کے موٹر سائیکلوں پر گھر کے لیے نکلے اور ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ چند لوگوں نے ان کے بھائی کو گن پوائنٹ پر گاڑی میں بٹھایا اور لے گئے۔

اگلے روز صبح سویرے ہی ان کے ہی فون سے کال آئی کہ ایک بڑی رقم لے کر ان کی بتائی ہوئی جگہ پہنچ جاؤ۔ تھوڑی بحث کے بعد دس لاکھ روپے پر معاملہ طے ہوا اور یوں بھائی کو انہوں نے آزاد کیا۔ ان کے بقول اس سارے معاملے میں پوری رات کی ذہنی کوفت کے علاوہ اگلے دن دوپہر کے تین بج گئے تھے۔

کراچی بدامنی کیس کے سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے دباؤ کے نتیجے میں پولیس نے بظاہر ٹارگٹ کلنگز کی روک تھام پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے لیکن اب تک کوئی افاقہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس دو ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کیا گیا تھا جبکہ اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران 728 افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔

سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت سولہ اپریل کو دوبارہ شروع ہورہی ہے۔

اسی بارے میں