’پولیو اور انتخابی مہم کو ایک جیسا خطرہ ہے‘

پاکستان میں پیر سے تین روزہ انسداد پولیو مہم شروع کی گئی ہے جس میں عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تین کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

تاہم صوبہ خیبر پختونخوا میں ملک گیر انسدادِ پولیو مہم کے آغاز میں صوبے کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ انتخابی سرگرمیوں کی وجہ سے سکیورٹی کے انتظامات کم پڑ رہے ہیں۔

صوبائی سیکریٹری داخلہ اعظم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’پولیو کی مہم اور انتخابی سرگرمیوں کو ایک ہی خطرہ ہے اور ہم اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی عملے کی کم تعداد کے باوجود پوری کوشش کر رہے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے صدر، وزیرِ اعظم اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ فرنٹیر کانسٹیبلری کے 70 فیصد اہلکار، جو اسلام آباد میں پروٹوکول کے فرائض انجام دے رہے ہیں یا دیگر صوبوں میں تعینات کئے گئے ہیں، انہیں خیبرپختونخوا واپس بلایا جائے‘۔

یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے گذشتہ سال ایف سی اہلکاروں کی واپسی کے لیے حکم دیا تھا جس پر ابھی تک عمل نہیں ہوا۔

اعظم خان نے کہا کہ پولیو ٹیم کے حوالے سے ان تمام اضلاع میں خطرہ ہے جن کی سرحد قبائلی علاقوں سے ملتی ہیں۔’انتخابات بھی اہم ہیں اور پولیو کی مہم بھی۔ لیکن وفاق ہمیں سرحد کو محفوظ کرنے کے لیے ایف سی واپس نہیں بھیجتی۔ آخر ہم ایک جنگ لڑ رہے ہیں‘۔

واضح رہے کہ گذشتہ جولائی سے لے کر اب تک پولیو کے قطرے پلانے والے افراد اور کو تحفظ فراہم کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں پر کئی بار حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں دس سے زائد کارکنان اور دو اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ یہ حملے صوبے خیبر پختونخواہ اور کراچی میں ہوئے تھے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کی پولیو مہم کے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ انتخابی جلسوں اور ریٹرننگ افسروں کے تحفظ کے لیے تعینات پولیس اہلکار، پولیو ٹیم کے سولہ ہزار رضاکاروں پر مبنی عملے کے لیے کم پڑ رہے ہیں۔

دسمبر میں میں ہونے والے حملوں میں نو پولیو مہم کے کارکنان ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے سکیورٹی کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کی تھی۔ اس میں فیصلہ ہوا تھا کہ ہر ضلعے کو مخصوص سکیورٹی خدشات کے بنیاد پر سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ تاہم پولیو ٹیموں اور سکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے خیبر پختونخوا کے اہلکاروں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔

ادھر صوبہ سندھ میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیو مہم میں 76 لاکھ بچوں کوانسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

سرکاری طور پر صوبے میں پولیو مہم کا آغاز تو پیر سے ہوا ہے مگر گڈاپ اور بلدیہ میں 11 اپریل سے لے کر 13 اپریل تک پولیس کی نگرانی میں گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ دو رضاکاروں کے ساتھ ایک پولیس اہلکار تعینات تھے اور حساس نوعیت کے علاقوں میں پولیس کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا۔

پاکستان ان تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے۔

عالمی اداراۂ صحت کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر الائس ڈری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تین روزہ انسدادِ پولیو مہم اس سال کی پہلی ملک گیر مہم ہے۔

’یہ سال صرف پاکستان ہی کے لیے اہم نہیں ہے بلکہ ان دیگر ممالک کے لیے بھی ہے جہاں پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں اس سال جتنے کم کیسز کبھی نہیں تھے۔ افغانستان میں صرف ایک کیس سامنے آیا ہے جبکہ نائیجیریا میں دس سے زیادہ ہیں۔ پولیو کے خلاف جنگ کے لیے ایک ساتھ پولیو کا خاتمہ ضروری ہے، اسی لیے پاکستان کی اس مہم کی عالمی اہمیت بھی ہے۔ ہم حکومتِ پاکستان کے عزم کی بہت قدر کرتے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں دو لاکھ پولیو کے قطرے پلانے والے رضاکار ہیں جو ملک بھر میں تین کروڑ سے زیادہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو ویکسین دیں گے۔

’اب تک پاکستان میں پولیو کے چھ کیس سامنے آچکے ہیں جبکہ اس وقت گذشتہ سال، سولہ کیس سامنے آئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی مسلسل کوششیں کارآمد ہو رہی ہیں‘۔

تاہم، عالمی اداراۂ صحت کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پولیو ٹیموں پر حملوں کی وجہ سے مہم متاثر ہوئی ہے اور پاکستان کو کیا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، یہ مئی سے ستمبر تک معلوم ہو گا‘۔

اسی بارے میں