’ہم نے ووٹ کیا ڈالنا ہے۔۔۔‘

خواتین

نفیسہ بی بی صوابی کے علاقے مانکی کی رہائشی ہیں۔ ان کی عمر 60 برس سے زیادہ ہوچکی ہے لیکن انھوں نے کبھی بھی اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔ وہ ہی کیا ان کے علاقے کی کسی بھی خاتون کو کبھی اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ملی۔

نفیسہ کہتی ہیں: ’ہم نے ووٹ کیا ڈالنا ہے ہمیں کبھی کسی نے انسان تو کیا گدھوں میں بھی شامل نہیں کیا۔ ساری زندگی شناختی کارڈ بھی نہیں ملا۔ اب بیٹے کو سرکاری نوکری ملی تو علاج کی سہولت کے لیے شناختی کارڈ بنوایا ہے۔ ہمیں ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ ووٹ ڈالنا عورتوں کا کام نہیں۔‘

پاکستان میں انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے ادارے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق 2008 کے اتنخابات کے دوران ملک بھر میں 564 پولنگ سٹیشن ایسے تھے جن میں کسی ایک خاتون نے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔

خیبر پختونخواہ کے علاقے صوابی میں 70 پولنگ سٹیشن ایسے تھے جہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔ کئی علاقوں میں مشیران نے جرگوں میں یہ طے کیا کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

Image caption پاکستان میں خواتین میں ووٹ ڈالنے کے تئیں بیداری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے

عوامی نیشنل پارٹی ایک سیاسی کارکن تسلیم خان گزشتہ انتخابات کے دوران خواتین کو پولنگ کا حق دلانے کی کوشش کرتی رہیں۔

تسلیم کہتی ہیں ’بعض مرد چاہتے ہی نہیں تھے کہ عورتیں ووٹ ڈالیں۔ وہ کہتے تھے ہم لوگوں کا کام تھا ہم نے ووٹ ڈال دیا تم لوگوں کا کام ہے گھر کا کام کرنا تم وہ کرو۔ اس پر ہم نے بہت شور مچایا اور کوشش کی کہ عورتوں کو ووٹ کے لیے گھروں سے باہر لائیں لیکن ہمارے علاقے کے کئی دیہات بٹہ کڑا، گلا، کوٹہ ایسے تھے جہاں عورتوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘

صوابی میں پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔ 2001 کے بلدیاتی اتنخابات کے دوران صوابی، مردان اور دیر میں مختلف جماعتوں سے وابستگی رکھنے والے امیدواروں نے خواتین کو الیکشن سے دور رکھنے کے لیے باقاعدہ معاہدے کیے۔

فلاحی تنظیم سماجی رابطہ بہبود کونسل کے کارکن روح الامین خواتین کو ووٹ سے محروم رکھنے کے فیصلوں کو سیاسی جماعتوں کی مفاد پرستی سے تعبیر کرتے ہیں: ’اگر سیاسی جماعتیں یہ سمجھتیں ہیں کہ خواتین میں ان کے برابر کے ووٹ ہیں تو وہ بہت آسانی سے ایسے معاہدے کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہیں۔ لیکن اگر کسی جماعت کو یہ محسوس ہو کہ خواتین میں ان کے ووٹ زیادہ ہیں تو وہ کوشش کرتی ہیں کہ وہ اس میں شامل نہ ہو اور 2001 میں بہت سی یونین کونسل میں اسی وجہ سے خواتین ووٹ نہیں ڈال سکیں۔‘

صوابی میں عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین آج کل انتخابی مہم کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں اور تہیہ کیے ہوئے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں خواتین کو کسی صورت بھی انتخابی عمل سے دور رکھنے کے کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔

اے این پی کی کارکن خاندانہ نعیم کہتی ہیں: ’یہاں پر پنج پیر اور شاہ منصور میں مدرسے ہیں جہاں مولوی صاحبان خواتین کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ ووٹ ڈالیں سکیں۔ لیکن اس بار امکان یہ ہے کہ خواتین بھی ان علاقوں میں ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلیں گی ان میں بھی کچھ آگہی آئی ہے۔‘

لیکن یہ رجحان صرف قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخواہ تک محدود نہیں انتخابات کی نگرانی کرنے والے اداروں کی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق پنجاب کے کئی شہروں اور اسلام آباد کے علاقے جی سیون ٹو کے ایک پولنگ سٹیشن پر بھی گزشتہ عام انتخابات میں کسی ایک خاتون نے بھی ووٹ کے حق کا استمعال نہیں کیا۔

Image caption کئی علاقوں میں مشیران نے جرگوں میں یہ طے کیا کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی

تاہم یہاں ووٹ نہ ڈالنے کی وجہ صوابی سے کچھ مختلف ہے۔ علاقے کی رہائشی نسرین کہتی ہیں ’جب ہمارا کوئی فائدہ ہی نہیں تو ووٹ کیوں ڈالیں۔ جب تک ہمارے مسئلے حل نہیں ہوں گے ہم کسی کو ووٹ نہیں دیں گے۔‘

گذشتہ عام انتخابات کے دوران خواتین شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث بھی اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کرپائیں تاہم اس بار بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بدولت ہزاروں خواتین شناختی کارڈ حاصل کرچکی ہیں۔

ان علاقوں میں جہاں ماضی میں خواتین کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی وہاں اس مرتبہ انھیں ووٹ سے روکنے کی کوئی منظم کوشش ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے۔

انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والی تنظیمیں پرامید ہیں کہ گیارہ مئی کے انتخابات کے دوران خواتین کو ان کے اس بینادی شہری حق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں