پرویز مشرف کا مستقبل

Image caption پرویز مشرف نے قومی اسمبلی کے چار مختلف حلقوں سے امیدوار تھے تاہم تمام حلقوں سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے ہیں

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے حامی ہوں یا ان کے مخالف سب کے سب ایک ہی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ آیا کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد پرویز مشرف مکمل طور انتخابی معرکہ سے باہر ہوگئے ہیں یا ابھی ان کے پاس انتخابات میں حصہ لینے کی کوئی گنجائش یا راستہ باقی ہے۔

پرویز مشرف نے قومی اسمبلی کے چار مختلف حلقوں سے امیدوار تھے تاہم تمام حلقوں سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے ہیں۔

تمام حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد بظاہر پرویز مشرف کی عام انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش دم توڑ گئی ہے۔

پاکستان میں انتخابی قوانین کے تحت کسی امیدوار کے کاغذات کی جانچ پڑتال ریٹرننگ آفیسر کرتا ہے اور کاغذات منظور یا مسترد ہونے کے خلاف ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ٹربیونل سے رجوع کیا جاتا ہے۔

سابق فوجی صدر کے چترال سے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف الیکشن ٹربیونل نے اپیل منظور کر لی جبکہ کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف جو تین الگ الگ اپیلیں دائر کی گئی تھیں ان کو متعلقہ الیکشن ٹربیونلز نے خارج کر دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق انتخابی قوانین کے تحت امیدوار کے کاغذات مسترد ہونے کے بعد اس کی دادرسی کے لیے الیکشن ٹربیونل کی شکل میں ایک فورم فراہم کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن ٹربیونل بھی کاغذات کو مسترد کردے تو اس کے بعد امیدوار کے پاس عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت دادرسی کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں التبہ ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اعلیْ عدلیہ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق امیدوار کے کاغذات نامزدگی کے مسترد یا منظور ہونے کی دونوں صورتوں میں الیکشن ٹربیول کے فیصلے کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ الیکشن ٹربیونل سے کاغذات مسترد ہونے کے بعد امیدوار کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹربیونل کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست کا دائرہ محدود ہوتا ہے جبکہ ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف درخواست پر اسی وقت دادرسی ہوسکتی ہے جب فیصلے میں کوئی واضح قانونی غلطی موجود ہو۔

سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کی رائے ہے کہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کیا تو جاسکتا ہے لیکن امیدوار دادرسی کے لیے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہ ہائی کورٹ کا الیکشن ٹربیونل دو رکنی ہوتا ہے اس لیے جب امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے لیے درخواست دائر کرے گا تو اس درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کا فل بنچ سماعت کرے گا جو کم از کم تین ججوں پر مشتمل ہوگا۔

سابق وزیر قانون کے مطاق ہائی کورٹ کے فل بنچ کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے تاہم براہ راست ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا جاسکتا۔

قانونی ماہرین کے مطابق ماضی میں بھی الیکشن ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ درخواستیں دائر کی گئیں اور اب بھی یہ امکان ہے کہ ٹربیونل کے فیصلوں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔

اسی بارے میں