کراچی:سات تھانوں کی حدود میں نو گو ایریا

Image caption بینچ کراچی میں بدامنی پر ازخود نوٹس اور اس کیس میں سنہ دو ہزار بارہ کو دیے گئے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے سلسلے میں سماعت کررہا ہے

سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ کراچی شہر کے سات تھانوں کی حدود میں نوگو ایریاز موجود ہیں۔

منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کراچی بدامنی کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے جمع کرائی جانے والے رپورٹ کے مطابق سات تھانوں کی حدود میں واقع نو گو ایریاز میں سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتون آباد ہیں۔

سماعت کے موقع پر کراچی کے چاکی واڑا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او محمد طفیل نے بیان حلفی جمع کرایا۔ جس کے مطابق ان کے تھانے کے حدور میں جرائم کی سرپرستی سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کر رہی ہے۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں کل تھانوں کی تعداد ایک سو چھ ہے جس میں ننانوے تھانے ایسے ہیں جن کی حدود میں نوگو ایریاز موجود نہیں ہیں۔

عدالت میں ایم کیو ایم کی رہنما نسرین جلیل کا ایک خط بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے طالبان پر الزام عائد کیا کہ وہ کراچی شہر میں بھتہ خوری، بینک ڈکیتی، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہے اور شہر میں متوازن عدالتی نظام بھی قائم کر رکھا ہے۔ (ابتدائی خبر میں طالبان کی جگہ سہواً ایم کیو ایم کا نام شائع ہوا اور اب اس غلطی کی تصحیح کر دی گئی ہے۔)

Image caption سندھ پولیس کے مطابق شہر سے نوگو ایریا ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں

انہوں نے اپنے خط میں سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے کراچی شہر کا امن بحال کریں۔

اس پر بینچ کے رکن جسٹس اعجاز افضل نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ جو جماعت پانچ سال تک حکومت میں رہی ہے وہ اب عدالت سے کہہ رہی کہ کراچی کا امن بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق سندھ کے نگراں وزیراعلیٰ بھی ایم کیو ایم کی مشاورت سے مقرر ہوئے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو کراچی شہر سے نوگو ایریاز ختم کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔

اس پر سندھ پولیس کے سربراہ آئی جی شاہد ندیم بلوچ نے کہا کہ وہ نوگو ایریا ختم کرنے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں تاہم انہوں نے عدالت کو کوئی یقین دہانی نہیں کرائی کہ کتنے عرصے تک نو گو ایریاز ختم کر دیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کی چار تاریخ کو سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے حکومتِ سندھ کو حکم دیا تھا کہ کراچی میں نوگو ایریاز سات روز کے اندر ختم کیے جائیں۔

اسی بارے میں