’پیچھے والے راستے سے چلیں جائیں‘

چک شہزاد میں سابق صدر پرویز مشرف کی رہائش گاہ اگرچہ اسلام آباد شہر سے زیادہ دور نہیں لیکن یہاں شہر کی گہماگہمی مفقود ہے اور اردگرد کا ماحول کسی گاؤں کی مانند پرسکون ہے تاہم جمعرات کو آج نعروں کی گونج اور پولیس کے بوٹوں کی چاپ سے اس امن میں خلل پڑتا نظر آیا۔

یہ خبر پہنچتے ہی کہ سابق صدر عدالت سے اپنے فارم ہاؤس کی جانب روانہ ہو گئے ہیں حسبِ معمول میڈیا وہاں پہنچا تو اس وقت تک سابق صدر پرویز مشرف کی جماعت کے کارکنان بھی وہاں جمع ہو رہے تھے۔

تاہم دس منٹ کے اندر اندر کہانی اس وقت بدل گئی جب سینیئر پولیس افسران پہنچے اور داخلی راستے بند کردیے۔

اس پر علاقے میں جانے کے خواہشمند ایک باریش شخص کے ساتھ پولیس کی گرما گرم بحث ہوئی۔ پولیس نے انہیں روکا تو وہ بھڑک کر بولے ’کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟‘

پولیس نے انہیں صبر کرنے کو کہا اور درخواست کی ’ہمارے بھی مسائل ہیں‘۔ لیکن نہ کوئی درخواست اور نہ التجا کام آئی۔

دیکھتے ہی دیکھتے فورک لفٹر کی مدد سے سیمنٹ کے بلاکس سے ناکہ بندی کی گئی اور پولیس نے داخلی راستے پر محافظ کھڑا کر دیا۔

سابق صدر کی جماعت کے دو درجن کے قریب حامیوں نے جمع ہو کر ’کالے کوٹ والے‘ اور ’نواز شریف کے ایجنٹ‘ کے خلاف نعرے لگا کر کیمروں کے لیے ہائے ہائے کی۔ یہ کارکنان ڈٹے رہے ’ہم خود گرفتار ہو جائیں گے، اپنے لیڈر کو گرفتار نہیں ہونے دیں گے‘۔

اس موقع پر سابق صدر کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی ایک کارکن ثمینہ مختار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف پر مبنی ہی نہیں تھا۔ ’ججوں کی گرفتاری کے معاملے پر اس وقت پرویز مشرف صدر ضرور تھے لیکن ان کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا۔ وزیرِ اعظم موجود تھے، وفاقی حکومت موجود تھی۔‘

ان کا دعویٰ تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے یہ کہتے ہوئےسابق صدر کے وکلاء کو حراساں کیا ’آپ اس وقت وکلاء کی تحریک میں ہمارے ساتھ تھے تو آج آپ پرویز مشرف کا ساتھ کیوں دے رہے تھے؟‘

تمام صحافی تذبذب کا شکار تھے اور اس وقت بھی افواہیں تھیں کہ سابق صدر کو ان کے فارم ہاؤس میں نظر بند کیا جائے گا۔ ایک فوٹوگرافر ہنس کر بولے ’اچھی نظر بندی ہے۔ اندر سوئمنگ پول بھی ہے۔‘

اے پی ایم ایل کے ایک کارکن سے ایک رپورٹر نے بار بار پوچھا کہ سپریم کورٹ میں کب درخواست دائر کریں گے۔ اس کا جواب نہیں ملا تو انہوں نے پھر اکسانے کی کوشش کی کہ یہ احتجاج پر امن تو نہیں ہے؟

جماعت کے کارکن نے جذبات کی رو میں بہہ کر جواب دیا ’یہ ہمارا حق ہے۔ ہمارے جذبات بہت مجروح ہوئے ہیں۔ پاکستان کے سابق صدر ہیں، ہمارے قائد ہیں، اس ملک کے صدر ہیں آپ کے بھی صدر ہیں۔‘

رپورٹر نے پھر پوچھا، ’کیا پرویز مشرف ملک چھوڑ دیں گے؟‘

تو انہوں نے ہنس کر جواب دیا ’یہ شاید لوگوں کی خواہش ہو گی۔ جب کوئی ایسا سوال پوچھتا ہے تو ہم یہی کہتے ہیں کہ پرویز مشرف تمام نتائج کو تول کر واپس آئے تھے۔‘

تاہم جب گھنٹے بھر فلمبندی ہو گئی اور کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور جذبات کڑکتی ہوئی دھوپ کے باوجود ٹھنڈے ہو گئے۔ میڈیا والے بھی کسی اور پہلو کی تلاش میں تھک کر بکھر گئے اور حامی بھی منتشر ہو گئے۔

پولیس سے پھر میڈیا کے نمائندوں نے اندر جانے کی اجازت لی، تو انہوں نے مشورہ دیا ’اس راستے سے تو اجازت نہیں ہے، پیچھے والے راستوں سے چلے جائیں‘۔ اب یہ پتا نہیں کہ یہ مشورہ میڈیا کے لیے تھا یا سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے لیے؟

اسی بارے میں