مشرف کی گرفتاری کا حکم، آئی جی کی طلبی

ضمانت منسوخ، گرفتاری کا حکم

Image caption سابق صدر پرویز مشرف کئی مقدمات میں اشتہاری ہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے جمعرات کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عبوری ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم دیا۔

جمعرات کو عدالتی کارروائی کے دوران ہی پرویز مشرف کی سکیورٹی پر تعینات نجی محافظوں اور رینجرز کے اہلکاروں نے انہیں کمرۂ عدالت سے اپنی تحویل میں لے لیا اور اسلام آباد کے مضافات میں ان کے فارم ہاؤس لے گئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اپنے حکم میں ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے سے متعلق مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی دفعات کے بھی اضافے کا حکم دیا تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف یہ مقدمہ سنہ دو ہزار نو میں تھانہ سیکرٹریٹ میں ان کی ملک میں عدم موجودگی میں درج کیا گیا تھا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ ان کے موکل نے تین نومبر کے اقدامات میں کہیں پر یہ نہیں کہا تھا کہ ججوں کو نظر بند کیا جائے لہٰذا یہ الزامات غلط ہیں اور اس کے کوئی ثبوت بھی نہیں ہیں لیکن اس سے عدالت نے اتفاق نہیں کیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے ملکی عدالتی نظام کو تباہ کیا اور ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے سے پاکستان کی پوری دنیا میں بدنامی ہوئی ہے۔

قمر افضل نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے موکل نے تین نومبر سنہ دوہزار سات میں اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو حبس بےجا میں نہیں رکھا بلکہ اُن کی سکیورٹی کے لیے باڑ لگائی گئی تھی جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اس سادگی پر کون نہ مرجائے اے خدا‘۔

پرویز مشرف کے وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُن کے موکل نے ملک میں ذاتی حیثیت میں ایمرجنسی نہیں لگائی تھی بلکہ کابینہ اور وزیر اعظم کی ایڈوائس پر لگائی گئی تھی۔

عدالت نے ملزم کے وکیل سے استفسار کیا تھا کہ کیا اُن کے موکل کبھی تفتیش کے لیے تھانے گئے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جو اس مقدمے میں وفاق کی نمائندگی کر رہے ہیں، کہا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود پرویز مشرف کبھی بھی متعلقہ تھانے یا تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اپنے خلاف مقدمات کا سامنے کرنے کی بجائے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آئے تھے۔

سابق صدر کے وکیل نے اس عدالتی حکم پر اعتراض کیا تھا کہ اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کا بھی اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ایک قابل ضمانت جُرم ہے اور عدالت اپنے تئیں ایسے احکامات جاری نہیں کرسکتی تاہم عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج شوکت عزیز صدیقی بطور وکیل چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی بحالی کی تحریک میں پیش پیش رہے اور اس تحریک کے دوران اُنہیں کچھ دنوں کے لیے جیل بھی جانا پڑا تھا۔

ادھر پاکستان کی بعض سیاسی جماعتوں نے سابق صدر پرویز مشرف کی گرفتاری کے عدالتی حکم کا خیر مقدم کیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے ترجمان سینیٹر پرویز نے کہا تھا کہ آج عدلیہ اور سیاست کی بالادستی کا دن ہے اور پرویز مشرف کیفرِ کردار تک پہنچ گئے ہیں۔

تحریکِ انصاف کی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری نے کہا تھا کہ حکومت کو ان پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیے جنہوں نے مشرف کے فرار میں مدد دی۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی قتل اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کے مقدمات میں اشتہاری ہیں۔

آئی جی پولیس کی طلبی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ججوں کو حبسِ بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت مسترد ہونے پر انہیں گرفتار نہ کیے جانے پر اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو اُنیس اپریل کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے ضمانت کی منسوخی کے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ جب یہ فیصلہ تحریر کروایا جا رہا تھا تو ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے عدالت کو مطلع کیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے نجی محافظوں نے انہیں مقامی پولیس کے سامنے گرفتاری دینے کی بجائے عدالت سے بھاگنے میں مدد دی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف اور ان کے محافظوں کا یہ عمل بھی بظاہر ایک اور جرم ہے اس لیے اسلام آباد کے آئی جی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ عدالت میں حاضر ہو کر وضاحت کریں کہ معاملے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی مناسب نفری کیوں تعینات نہیں کی گئی۔

عدالت نے آئی جی پولیس سے پرویز مشرف کی مدد کرنے والے افراد کے بارے میں اور اپنی ذمہ داریوں سے صحیح طریقے سے عہدہ برا نہ ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

’ہم نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ اس لیے مشرف کو ان کے مکان میں رہنے دیا جائے اور وہ اسلام آباد ہی میں رہیں گے اور جب بھی عدالت طلب کرے گی وہ حاضر ہوں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی پولیس ابھی پرویز مشرف کے فارم ہاؤس پر آئے تھے اور بات کر کے گئے ہیں۔ ’وہ اپنے مکان میں پولیس کے لیے دستیاب ہیں۔ ابھی قانونی عمل جاری ہے اور پولیس بھی ہاتھ ڈالنا نہیں چاہتی۔‘

خیال رہے کہ عدالت کی جانب سے گرفتاری کے احکامات جاری ہونے کے بعد اب سابق صدر پرویز مشرف نجی محافظوں اور رینجرز اہلکاروں کی حفاظت میں اسلام آباد کے مضافات میں واقع چک شہزاد میں اپنے فارم ہاؤس پر ہیں اور تاحال ان کی گرفتاری کے لیے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

’پیچھے والے راستوں سے چلے جائیں‘

چک شہزاد میں سابق صدر پرویز مشرف کی رہائش گاہ اگرچہ اسلام آباد شہر سے زیادہ دور نہیں لیکن یہاں شہر کی گہماگہمی مفقود ہے اور اردگرد کا ماحول کسی گاؤں کی مانند پرسکون ہے تاہم جمعرات کو آج نعروں کی گونج اور پولیس کے بوٹوں کی چاپ سے اس امن میں خلل پڑتا نظر آیا۔

یہ خبر پہنچتے ہی کہ سابق صدر عدالت سے اپنے فارم ہاؤس کی جانب روانہ ہو گئے ہیں حسبِ معمول میڈیا وہاں پہنچا تو اس وقت تک سابق صدر پرویز مشرف کی جماعت کے کارکنان بھی وہاں جمع ہو رہے تھے۔

تاہم دس منٹ کے اندر اندر کہانی اس وقت بدل گئی جب سینیئر پولیس افسران پہنچے اور داخلی راستے بند کردیے۔

اس پر علاقے میں جانے کے خواہشمند ایک باریش شخص کے ساتھ پولیس کی گرما گرم بحث ہوئی۔ پولیس نے انہیں روکا تو وہ بھڑک کر بولے ’کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟‘

پولیس نے انہیں صبر کرنے کو کہا اور درخواست کی ’ہمارے بھی مسائل ہیں‘۔ لیکن نہ کوئی درخواست اور نہ التجا کام آئی۔

دیکھتے ہی دیکھتے فورک لفٹر کی مدد سے سیمنٹ کے بلاکس سے ناکہ بندی کی گئی اور پولیس نے داخلی راستے پر محافظ کھڑا کر دیا۔

سابق صدر کی جماعت کے دو درجن کے قریب حامیوں نے جمع ہو کر ’کالے کوٹ والے‘ اور ’نواز شریف کے ایجنٹ‘ کے خلاف نعرے لگا کر کیمروں کے لیے ہائے ہائے کی۔ یہ کارکنان ڈٹے رہے ’ہم خود گرفتار ہو جائیں گے، اپنے لیڈر کو گرفتار نہیں ہونے دیں گے‘۔

اس موقع پر سابق صدر کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی ایک کارکن ثمینہ مختار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف پر مبنی ہی نہیں تھا۔ ’ججوں کی گرفتاری کے معاملے پر اس وقت پرویز مشرف صدر ضرور تھے لیکن ان کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا۔ وزیرِ اعظم موجود تھے، وفاقی حکومت موجود تھی۔‘

ان کا دعویٰ تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے یہ کہتے ہوئےسابق صدر کے وکلاء کو حراساں کیا ’آپ اس وقت وکلاء کی تحریک میں ہمارے ساتھ تھے تو آج آپ پرویز مشرف کا ساتھ کیوں دے رہے تھے؟‘

تمام صحافی تذبذب کا شکار تھے اور اس وقت بھی افواہیں تھیں کہ سابق صدر کو ان کے فارم ہاؤس میں نظر بند کیا جائے گا۔ ایک فوٹوگرافر ہنس کر بولے ’اچھی نظر بندی ہے۔ اندر سوئمنگ پول بھی ہے۔‘

اے پی ایم ایل کے ایک کارکن سے ایک رپورٹر نے بار بار پوچھا کہ سپریم کورٹ میں کب درخواست دائر کریں گے۔ اس کا جواب نہیں ملا تو انہوں نے پھر اکسانے کی کوشش کی کہ یہ احتجاج پر امن تو نہیں ہے؟

جماعت کے کارکن نے جذبات کی رو میں بہہ کر جواب دیا ’یہ ہمارا حق ہے۔ ہمارے جذبات بہت مجروح ہوئے ہیں۔ پاکستان کے سابق صدر ہیں، ہمارے قائد ہیں، اس ملک کے صدر ہیں آپ کے بھی صدر ہیں۔‘

رپورٹر نے پھر پوچھا، ’کیا پرویز مشرف ملک چھوڑ دیں گے؟‘

تو انہوں نے ہنس کر جواب دیا ’یہ شاید لوگوں کی خواہش ہو گی۔ جب کوئی ایسا سوال پوچھتا ہے تو ہم یہی کہتے ہیں کہ پرویز مشرف تمام نتائج کو تول کر واپس آئے تھے۔‘

تاہم جب گھنٹے بھر فلمبندی ہو گئی اور کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور جذبات کڑکتی ہوئی دھوپ کے باوجود ٹھنڈے ہو گئے۔ میڈیا والے بھی کسی اور پہلو کی تلاش میں تھک کر بکھر گئے اور حامی بھی منتشر ہو گئے۔

پولیس سے پھر میڈیا کے نمائندوں نے اندر جانے کی اجازت لی، تو انہوں نے مشورہ دیا ’اس راستے سے تو اجازت نہیں ہے، پیچھے والے راستوں سے چلے جائیں‘۔ اب یہ پتا نہیں کہ یہ مشورہ میڈیا کے لیے تھا یا سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے لیے؟

اسی بارے میں