’پرویز مشرف تفتیش کے لیے پولیس ہیڈکوارٹر منتقل‘

Image caption جنرل(ر) پرویز مشرف کو چک شہزاد میں واقع ان کے فارم ہاؤس پر ہی نظر بند کیا گیا ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ملک کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو دو دن کے ’ٹرانزٹ ریمانڈ‘ پر پولیس کی تحویل میں دیا ہے اور انہیں تفتیش کے لیے اسلام آباد پولیس کے ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ سب ڈویژنل پولیس افسر ادریس راٹھور کی سربراہی میں چار رکنی ٹیم سابق صدر سے تفتیش کرے گی۔

اس سے قبل اسلام آباد کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے جمعہ کو ہی انہیں دو روز کے اندر راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ اس مقدمے میں انسداد دہشت گری کی دفعہ کا اضافہ کیا گیا ہے اس لیے اب یہ معاملہ اُن کے دائرہ سماعت میں نہیں آتا۔

پولیس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر سابق آرمی چیف کے خلاف اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو حبسِ بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق 6 کا اضافہ بھی کیا ہے جس کی سزا چودہ سال ہے۔

اسلام آباد کے سب ڈویژنل پولیس افسر ادریس راٹھور نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم پرویز مشرف کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم اور اُن کی سکیورٹی کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُنہیں چک شہزاد میں واقع ان کے فارم ہاؤس پر ہی نظر بند کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کی نظربندی کے احکامات رات گئے جاری کیے گئے تھے جبکہ چیف کمشنر اسلام اباد طارق پیرزادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب تک ملزم شامل تفتیش نہ ہو اور متعلقہ عدالت میں ان کے کیس کی سماعت شروع نہ ہو اس وقت تک ملزم کے گھر کو سب جیل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہمارے نمائندے شہزاد ملک کے مطابق سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے جمعہ کو خود کو پولیس کے حوالے کیا اور پولیس انہیں لینے کے لیے ان کے فارم ہاؤس پر گئی جہاں سے وہ رینجرز کی سکیورٹی میں اپنی بلٹ پروف گاڑی میں عدالت ائے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کے مقدمے میں اٹھارہ اپریل کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا تاہم اُس وقت اُنہوں نے پولیس کو گرفتاری نہیں دی تھی۔

سابق فوجی صدر کو جمعہ کو سکیورٹی کے سخت حصار میں اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں پیش کیاگیا۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ چونکہ اس مقدمے میں ملزم سے کوئی اسلحہ وغیرہ برآمد تو نہیں کروانا اس لیے اُن کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے اور پرویز مشرف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔

اس مقدمے کے مدعی اسلم گھمن کے وکلاء کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور اُن کے اہلخانہ کو گھروں میں نظر بند کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں ذہنی تشدد کا بھی نشانہ بنایا ۔اُنہوں نے کہا کہ جس شخص نے ملک کا آئین توڑا ہو اُس کو کیسے اتنی آسانی سے جیل بھیجا جاسکتا ہے۔

مدعی مقدمہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت پرویز مشرف کے ساتھ بھی اُسی طرح کا سلوک کرے جس طرح عام ملزمان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سُننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعدازاں جب عدالت کو بتایا گیا کہ اس کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ کا بھی اضافہ کردیاگیا ہے تو جج عباس شاہ کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعہ کا اضافہ ہونے کے بعد یہ مقدمہ اُن کے دائرہ سماعت میں نہیں ہے اس لیے ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے۔

عدالت نے ملزم پرویز مشرف کا دو دن کا راہداری ریمانڈ دیتے ہوئے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ پرویز مشرف کو اب اکیس اپریل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی قتل اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کے مقدمات میں اشتہاری ہیں۔

ادھر پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ نے ایک بار پھر منظور کردہ قرارداد میں مطالبہ کیا ہے کہ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے اور آئین کو پامال کرنے کے جرم میں آئین کی شق چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔

جمعہ کو ایوان بالا میں یہ قرارداد اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما اسحٰق ڈار نے پیش کی جو تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر منظور کرلی۔ سینیٹ نے گزشتہ برس جنوری میں بھی اس طرح کی قرارداد منظور کی تھی۔

بیشتر جماعتوں کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ نگراں حکومت پرویز مشرف کو اپنے گھر میں نظر بند کرنے کے بجائے انہیں جیل بھیجے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ پرویز مشرف کو اٹک قلعہ میں رکھا جائے جہاں انہیں بچھو اور سانپ کانٹیں، کیونکہ وہ اس کے حقدار ہیں۔

اسی بارے میں