انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان خلیج

Image caption پرویز مشرف پہلے ملزم ہیں جو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے

سنیچر کے روز سابق فوجی صدر کو جب اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان واضح خلیج نظر آ رہی تھی۔

پہلے پولیس کی کوشش یہ تھی کہ پرویز مشرف کو کمرہ عدالت میں لےجانے کی بجائے بُلٹ پروف گاڑی میں ہی بٹھایا جائے اور صرف عدالتی اہلکار وہاں جاکر اس بات کی تصدیق کرلے کہ ملزم موجود ہے اور اس کے بعد عدالتی کارروائی جاری رکھی جائے۔

لیکن انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد پولیس کو بادلِ ناخواستہ ملزم پرویز مشرف کو عدالت میں پیش کرنا پڑا۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے اہلکار کسی طور پر بھی اس بات پر تیار نہیں تھے کہ پرویز مشرف کا جسمانی ریمانڈ لیا جائے بلکہ جتنی جلدی ہوسکے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا جائے تاکہ اُن کی (پولیس) کی عزت اور نوکری دونوں محفوظ رہیں۔

پاکستان میں عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کسی ملزم کو کسی عدالت اور بالخصوص انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو تفتیشی اہلکار سب سے پہلے ملزم کا کم از کم دس روز کا جسمانی ریمانڈ مانگتے ہیں۔ لیکن اس مقدمے میں معاملہ اُلٹا دکھائی دیا اور پولیس افسران نے واضح طور پر کہہ دیا کہ ملزم پرویز مشرف تفتیش کے لیے مطلوب نہیں ہیں کیونکہ پولیس کے بقول اُنھوں نے رات گئے ملزم سے تفتیش مکمل کرلی ہے، اس لیے اُنھیں جیل بھیج دیا جائے۔

پولیس لائن ہیڈ کوارٹر جہاں پر پرویز مشرف کو رکھا گیا تھا، وہاں پر تعینات ایک پولیس اہلکار کے مطابق تفتیشی ٹیم کے ارکان کو مخص دس منٹ تک پرویز مشرف سے ’تفتیش‘ کرنے کی اجازت دی گئی جس کے بعد وہ واپس آگئے۔

عدالت میں جمع کروائے گئے ریکارڈ کے مطابق پولیس نے بڑی حد تک اس مقدمے کی تفتیش مکمل کرلی ہے اور بہت جلد اس کا چالان بھی عدالت میں پیش کردیا جائے گا۔ جب عدالت نے ملزم کو 14 روز کے لیے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تو ساتھ ہی جج نے تفتیشی افسر سے مسکرا کر کہا کہ آپ کا کام آسان ہوگیا ہے۔

نگراں حکومت نے پرویز مشرف کی عدالت میں پیشی سے ایک روز قبل ہی اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جب کہ اس سے پہلے راولپنڈی میں واقع انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جاتا تھا۔

پرویز مشرف پہلے ملزم ہیں جو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔

اس پر ہی بس نہیں ہوا بلکہ سیکرٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر کو نگراں وزیرِاعظم کا پرنسپل سیکرٹری تعینات کردیا گیا ہے جنھیں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر درخواستوں کے حوالے سے طلب کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں