کہانی ایک سیّد صاحب کی

جس زمانے میں سیّد پرویز مشرف نے سرپرستِ اعلیٰ (صدرِ پاکستان) ، چیف ایگزیکٹو آف پاکستان لمیٹڈ ، سپاہ سالار اور رئیس مجلسِ سپاہ سالاران (چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی) کی چار دستاریں پہن رکھی تھیں تب انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مجھے کوئی شوق نہیں تھا بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو اقتدار سنبھالنے کا۔ مجھے تو کسی نے اس تالاب میں دھکا دے دیا تھا۔

پھر ان کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ پڑھنے سے اندازہ ہوا کہ سیّد صاحب کی تو پوری زندگی ہی دھکم پیل کی تصویر ہے۔ پہلا دھکا تقسیم کی شکل میں پہنچا جب لاکھوں دیگر کی طرح ان کے خاندان کو بھی دلی کے کوچہ سعد اللہ سے کراچی کے ناظم آباد تک آنا پڑا۔

انیس سو چونسٹھ میں جب سیّد صاحب کو فوجی کمیشن ملا تو بھٹو اور ایوب خان نے پاکستان کو کشمیر کے تالاب میں دھکا دے دیا اور یوں پینسٹھ کی لڑائی کے دوران سیکنڈ لیفٹننٹ پرویز مشرف نے خود کو کھیم کرن کے محاذ پر دشمن سے دھکم پیل میں پایا۔

سنہ اکہتر میں جب یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان کو کنوئیں میں دھکا دے دیا تو سیّد صاحب اس وقت ایک درمیانے درجے کے افسر تھے۔ چنانچہ وہ اس دھکم دھکی سے بچے رہے۔ لیکن جب انیس سو اٹھانوے میں نواز شریف نے چار پانچ فوجی افسروں کو سینیارٹی کی سیڑھی سے دھکا دے کر سیّد صاحب کو سب سے آگے کھڑا کردیا تو سیّد صاحب نے ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر پاکستان کو کارگل کی چوٹیوں سے دھکا دے دیا۔ اور جب نواز شریف نے انہیں طیارے سے دھکا دینے کی کوشش کی تو سیّد صاحب سیدھے اقتدار کے تالاب میں اور دھکا دینے والا توازن کھونے کے سبب اٹک کے قلعے میں آن گرا۔

پھر امریکہ نے سیّد صاحب کو نائن الیون کے غار میں دھکا دے دیا۔ مگر سیّد صاحب خود کو اس چوٹ سے بچانے کے لیے ملک کی ٹانگوں سے لپٹ گئے اور اپنے ساتھ پاکستان کو بھی نائن الیون کے غار میں لے گئے۔ کچھ عرصے بعد بمشکل انہوں نے امریکہ کی سیاسی و اقتصادی سیڑھی کی مدد سے خود کو اس غار سے نکالا ہی تھا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کو راستے میں کھڑا دیکھ کر ایسا ناظم آبادی اڑنگا لگایا کہ خود سیّد صاحب بھی منہ کے بل گرگئے۔

اس دوران کسی نے ان سے پوچھا کہ وردی کب اتاریے گا؟ کہنے لگے یہ وردی نہیں ان کی کھال ہے۔ اور جب یہ کھال بالآخر اتری تو پتہ یہ چلا کہ وہ جتنے کمانڈو تھے اس سے زیادہ کمانڈو تخلص کرتے تھے۔ سب سے پہلے یہ راز آصف زرداری کو پتہ چلا لہٰذا انہوں نے پہلی فرصت میں حضرتِ کمانڈو دہلوی کو گارڈ آف آنر دکھا کر طیارے کی سیڑھیوں پر اوپر کی جانب ایسے دھکا دیا جیسے پرویز مشرف نا ہوں کوئی رفیق تارڑ ہوں۔

اگلے پانچ برس تک جب سیّد صاحب دیارِ غیر میں پاکستانی جمہوریت کے فروغ میں اپنے مدبرانہ کردار پر روشنی ڈال ڈال کے شل ہوگئے تو انہیں دوبارہ سے بے یقینی کے گدلے ساحل پر پھنسے ہوئے پاکستان کو صاف پانیوں میں دھکا دینے کے لیے ٹگ بوٹ بننے کا خیال آیا۔ مگر اس وقت تک اپنوں کے ہی زخم خوردہ سیّد صاحب کے پاس ذاتی مقبولیت کو جانچنے کا صرف ایک ہی پیمانہ بچا تھا یعنی فیس بک۔ چنانچہ انہوں نے چار لاکھ فیس بکیوں کی نیک تمناؤں کے سہارے دو دفعہ ملک میں خمینی اور بینظیر سٹائل میں اترنے کی دھمکی دی۔ ایک آدھ ٹیلی وڈیو جلسے کے ذریعے درجہ حرارت ناپا۔ اپنی مقبولیت کو جمع تقسیم کیا اور خود کو بدلے بدلے سے پاکستان میں دھکا دے دیا۔

جب وہ کراچی میں اترے تو لاکھوں انٹرنیٹیوں میں سے تقریباً ایک سو کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے والہانہ استقبال کیا۔ مگر سیّد صاحب نے واپسی کی فلائٹ بک کرانے کو ایک بانکے کمانڈو کی روایتی شان کے خلاف سمجھا اور بلٹ پروف جیکٹ پہنے پہنے عمارت در عمارت گھومتے گھماتے عدالتی کمرے میں جا نکلے اور پھر بطور سلطان راہی مثالی حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے مشینی گھوڑے پر سوار وہ بہادرانہ پسپائی اختیار کی کہ اپنے ہی گھر کی جیل میں پہنچ کر دم لیا۔

کیا رات کی تاریکی میں پھر کوئی اڑن کھٹولا اترے گا اور اس بار پرویز مشرف کو پیا کے دیس لے جائے گا؟

کیا لال مسجد، نائن الیون، اکبر بگٹی، ایمرجنسی کے نفاذ، ججوں کی نظربندی، بینظیر قتل اور آئین سے بغاوت کی فائلیں اسی طرح داخلِ دفتر کرنے کی کوشش ہوگی جس طرح لیاقت علی خان، ضیاء الحق اور بینظیر بھٹو کے ساتھ کئی فائلیں چلی گئیں؟

یا پہلی دفعہ کوئی سابق فوجی حکمراں سویلین قانون کی مکمل حکمرانی کی پہلی پاکستانی مثال بنا دیا جائے گا؟

ہم جواب بتا کر آپ کی فلم کا مزہ خراب نہیں کرنا چاہتے۔ انٹرول کے بعد کی پہلی گھنٹی بج چکی ہے۔ براہِ کرم اپنی نشستوں پر تشریف رکھیے ۔خاموشی سے اس ایکشن تھرلر ڈرامے کا مزہ لیجیے۔

اسی بارے میں