راجہ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت

Image caption گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے راجہ پرویز اشرف کا نام امیدواروں کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا

لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیتے ہوئے ان کو انتخابات کے لیے اہل امیدوار قرار دے دیا ہے۔

ہائی کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت راجہ پرویز اشرف کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ کے فل بینچ نے یہ حکم راجہ پرویز اشرف کی اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے دیا جس میں سابق وزیراعظم نے ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن ٹربیونل کی طرف سے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

راجہ پرویز اشرف گوجر خان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 51 سے امیدوار تھے تاہم پہلے ریٹرننگ آفیسر اور بعد میں الیکشن ٹربیونل نے ان کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کرتے ہوئے انہیں گیارہ مئی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

سابق وزیراعظم نے ا پنے وکلا فاروق ایچ نائیک اور سردار لطیف کھوسہ کے ذریعے درخواست میں یہ استدعا کی تھی کہ ان کے کاغدات نامزدگی منظور کرتے ہوئے انہیں انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے سامنے راجہ پرویز اشرف کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل رینٹل پاور پراجیکٹ میں سزا یافتہ نہیں ہیں بلکہ اس معاملے کی ابھی کوئی انکوائری بھی شروع نہیں کی گئی۔

سابق وزیر اعظم کے وکلا کہنا ہے کہ راجہ پرویز اشرف کو کسی بھی عدالت سے سزا نہیں ہوئی اس لیے وہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور ترسٹھ کے تحت صادق اور امین ہیں۔

وکلا نے استدعا کی کہ راجہ پرویز اشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

اس سے پہلے گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے پرویز اشرف کا نام آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں مشاورت کی اجازت دی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کا فل بینچ جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں