اندرونِ سندھ میں بڑھتی شدت پسندی

Image caption شکارپور کے علاوہ کشمور، جیکب آباد ، سکھر اور خیرپور کی دیواریں اور کھنبے بھی کالعدم تنظیموں کی جھنڈوں اور چاکنگ سے سجی ہیں

صوفی غازی شاھ اندرون سندھ کا پہلا مزار ہے، جس کو پچیس جنوری کے دن دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، بم دھماکے میں گدی نشین حاجن شاہ سمیت چار افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے۔

بروہی اور بلوچ برداریوں کی اکثریتی عقیدت مندوں کے اس مزار کو کیوں نشانہ بنایا گیا نوجوان گدی نشین سرور شاہ اس سے لا علم ہیں۔

’ سائیں حاجن شاہ تو کسی سے بات نہیں کرتے تھے، اور کسی کے خلاف کبھی نہیں بولتے کسی سیاسی جلسے میں بھی نہیں جاتے تھے، ہر فرقے کے لوگ ان کے عقیدت مند تھے، کیا پتہ کس نے یہ کیوں کیا‛۔

اس مزار سے پہلے جیکب آْباد میں بریلوی مسلک کے پیر حسین شاھ پر بم حملہ کیا گیا جس میں ان کا پوتا ہلاک ہوگیا۔

سابق ایس ایس پی شکارپور پرویز چانڈیو ان دونوں مقدمات کی تفتیش میں شامل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کی نوعیت اور مقصد ایک ہی تھا۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں دوسرے ناموں سے دوبارہ سرگرم ہوجاتی ہیں لیکن وہ پولیس کی زیر نگرانی رہتی ہیں۔

’یہاں پر جو عام سندھی ہے، اس کو پر امن اسلام سے انتہا پسندی کے طرف راغب کرنا بہت مشکل ہے جس طرح انہوں نے خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تباھی مچائی ہے یہاں ان عناصر کو بہت مشکل ہوگی‛۔

پولیس نے ان واقعات کے سلسلے میں کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکنوں سمیت بیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ محمد پریل شاھ اہل سنت و الجماعت کے صوبائی رہنما ہیں۔ انہیں کراچی میں فرانسیسی انجنیئروں پر حملے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا، بعد میں بے گناہ قرار دے کر رہا کیا گیا۔

محمد پریل شاھ کا کہنا ہے ان کے کارکن دہشت گردی کی کسی سرگرمی میں ملوث نہیں رہے۔ ’ اگر ہمارے ساتھی گرفتار ہوجاتے ہیں تو ہم پر امن احتجاج کرتے ہیں اور عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔ ہم قتل عام یا دہشتگردی نہیں چاہتے۔ ہمیں تو یہ لگتا ہے کہ ہماری حکومت پر ایران کا دباؤ ہے اسی لیے ہمیں یہ سختیاں بھگتنا پڑتی ہیں۔‘

جیکب آباد، سکھر اور لاڑکانہ اضلاع کے وسط میں موجود شکارپور ضلعے میں مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں چار مرتبہ نیٹو ٹینکرز پر بھی حملے کیے گئے، ایک مجلس میں خودکش حملے کی کوشش کی گئی، تین ہندو نوجوانوں کو قتل کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں شدت پسند مذہبی گروہوں کا تسلط قائم ہوچکا ہے۔

Image caption صوفی غازی شاہ کے مزار کو کیوں نشانہ بنایا گیا نوجوان گدی نشین سرور شاہ اس سے لا علم ہیں

شکارپور گرلز کالج سمیت شہر میں اب کہیں میوزیکل پروگرام اور مینا بازار منعقد نہیں ہوتے، کالج میں ہر جمعے کے دن لڑکیوں کے لیے اخلاقیات کا خصوصی لیکچر پروگرام منعقد کیا جاتا ہے۔

شکارپور کے علاوہ کشمور، جیکب آباد ، سکھر اور خیرپور کی دیواریں اور کھنبے بھی کالعدم تنظیموں کی جھنڈوں اور چاکنگ سے سجی ہیں۔ یہ تنظیمیں اس سے پہلے اس قدر فعال نہ تھی۔ ان تنظیموں میں زیادہ تر بلوچ برداریوں کے لوگ شامل ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ سندھی برادریوں کی تعداد ان میں کم ہے۔

پولیس رکارڈ کے مطابق بلوچستان کے علاقے گنداخہ میں چیزل شاھ کی مزار میں ہونے والے بم دھماکے کا ماسٹر مائینڈ اور ہینڈلر دونوں کا تعلق شکارپور سے تھا جو سندھی تھے۔

پولیس کو شبہ ہے کہ شدت پسندوں کو مقامی طور پر تربیت دی جارہی ہے، جس کے لیے دریائی جنگلات کا علاقہ استعمال کیا جاتا ہے جو پولیس کی دسترس سے باہر ہے۔

کشمور سے لےکر کراچی تک قومی شاہراہ، انڈس ہائی وے اور سپر ہائی وے کی دونوں جانب بڑی تعداد میں مدارس ابھر آئے ہیں۔یہاں پاکستان بھر سے طالب علم آتے ہیں، جن میں جنوبی پنجاب اور خیبر پختون خوا کے طلبا کی تعداد نمایاں ہے۔

Image caption کشمور سے لےکر کراچی تک قومی شاہراہ، انڈس ہائی وے اور سپر ہائی وے کی دونوں جانب بڑی تعداد میں مدارس قائم ہوئے ہیں

ان مدارس کی رجسٹریشن اور یہاں کا نصاب کیا ہے۔ حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی چیک نہیں ہے۔

عبدالمجید چانڈیو شاھ عبدالطیف یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں ان کا کہنا ہے کہ انتہاپسندی اور مدارس کی تعداد میں اضافے کی وجوہات معاشی اور سیاسی ہیں۔

عبدالمجید چانڈیو نے کہا کہ’ مدراس کو فنڈنگ تو دستیاب ہے، تعلیم کے ساتھ خوراک بھی موجود ہیں، لوگ یہ سوچتے ہیں اور انہیں بتایا بھی جاتا ہے کہ یہ بچہ پڑھ کر مولوی بنے گا اس سے آمدنی بھی ہوگی۔اس صورتحال میں مدرسہ غریب لوگوں کے لیے پرکشش ادارہ بن گیا ہے‛۔

مولانا میر محمد خیرپور کے ایک درجن سے زائد مدارس چلاتے ہیں۔ ان کے پاس طالب علموں کی ایک طاقت موجود ہے جو بعض اوقات دھرنے دے کر سڑکیں بند کرکے اپنے مطالبات تسلیم کراتے ہیں لیکن مولانا میرکھ کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج اور طریقہ کار پرامن ہوتا ہے۔

اسی بارے میں