پروگرام کے لیے کروڑوں، بیواؤں کے لیے چند لاکھ

Image caption اس فہرست میں سب سے کم رقم صحافیوں کی بیواؤں پر خرچ کی گئی ہے

سپریم کورٹ نے ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے اُن افراد کی فہرست جاری کی ہے جن کے بیرونِ ملک دوروں کے اخراجات اور خصوصی اسائنمنٹ کی رقم وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈز سے ادا کی گئی۔

سپریم کورٹ کی طرف سے جاری گئی اس فہرست میں نگراں وزیر اطلاعات عارف نظامی کا نام بھی شامل ہے جنہیں ہوٹل میں قیام اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ بھی دیے گئے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل سے کہا ہے کہ وہ وزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈز کا آڈٹ کر کے رپورٹ جمع کروائیں۔ تاہم وزارت اطلاعات نے موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ یہ فنڈز قومی مفاد میں استعمال کیے گئے ہیں اس لیے اُن کے نام شائع نہ کیے جائیں۔

اس پر عدالت نے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ وزارت اطلاعات کے اہلکار ایسے کسی قانون کا حوالہ نہیں دے سکے جس کے تحت ان معلومات کو خفیہ رکھا جا سکے۔

اس فہرست میں سب سے زیادہ رقم ایک نجی ٹی وی چینل سی این بی سی کو ’اس ہفتے کا پاکستان‘ پروگرام کو نشر کرنے کی مد میں دی گئی ہے جو تین کروڑ پچاس لاکھ روپے ہے۔

اس فہرست میں اُن صحافیوں کے نام بھی ہیں جو وزیر اعظم کے بیرون ملک دوروں کے دوران اُن کے ہمراہ گئے تھے اور وہاں پر اُنہیں غیر ملکی کرنسی میں رہنے اور کھانے پینے کے اخراجات بھی دیے گئے تھے۔

اس فہرست میں دو سو بیاسی آئٹم ہیں جن میں غیر ملکی دوروں پر وزیراعظم کے ساتھ جانے والے صحافیوں پر اُٹھنے والے اخراجات، پاکستان میں مختلف صحافیوں کو دی جانے والی امداد اور پریس کلب کو دی جانے والی گرانٹ بھی شامل ہے۔

اس فہرست میں سب سے کم رقم صحافیوں کی بیواؤں پر خرچ کی گئی ہے۔ فہرست کے مطابق دس مرحوم صحافیوں کے بیواؤں کو گُزشتہ دو سال کے دوران دس لاکھ سے بھی کم رقم دی گئی جبکہ اس کے برعکس کچھ صحافیوں کو ایک اسائنمنٹ کے تین تین لاکھ روپے دیے گئے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق خفیہ فنڈز سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران وزارتِ اطلاعات کے ڈائریکٹر طاہر حسن نے کہا کہ’جس طرح پاکستان شدت پسندی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اس لیے اس کے حق میں کالم لکھوانے کے لیے مارکیٹ میں جو دستیاب صحافی ہیں اُنہیں پیسے دے کر جعلی ناموں سے کالم لکھوائے جاتے ہیں‘۔

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ سرکاری خزانے کو کیسے تشہیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ عوام کا حق ہے اُنہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اُن کی جیبوں سے جو ٹیکس کی شکل میں پیسہ نکالا گیا ہے وہ کہاں پر استعمال ہو رہا ہے۔ اس مقدمے کی سماعت چوبیس اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں