’مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ نہیں چلا سکتے‘

Image caption عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکلاء کو اپنے موکل سے ملنے کی اجازت دے دی ہے

پاکستان کی وفاقی نگراں حکومت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اُن کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔

سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر درخواستوں کی مد میں وفاق کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی کارروائی آنے والے وقت میں سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے لیے طویل مدت تک متنازع بنی رہے گی اور بہتر ہوگا کہ یہ معاملہ آنے والی منتخب حکومت پر چھوڑ دیا جائے۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں بیس روز سے بھی کم کا وقت رہا گیا ہے اور اس لیے حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سکیورٹی فورسز اس موقع پر امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے مصروف ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ امن وامان قائم رکھنےکے علاوہ حکومت کے لیے روزانہ کے امور کی انجام دہی بھی ضروری ہے۔

نگراں حکومت نے یہ تحریری جواب جسٹس جواد ایس جواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کے روز سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف ملکی آئین توڑنے پر غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں اُمیدواروں کو شدید خطرات کا سامنا ہے جبکہ گذشتہ عام انتخابات کے دوران ایسے حالات نہیں تھے اور اس ضمن میں نگراں حکومت کو ایسے چینجز کا سامنا ہے جس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکار نے تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔ اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کچھ نہیں ہوا اور اب عدالت کو پتہ چل گیا ہے کہ مستقبل میں بھی اس معاملے پر کچھ نہیں ہوگا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وفاق کے جواب پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے کو دیکھ لے گی کہ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کا اختیار نگراں وفاقی حکومت کے پاس ہے یا نہیں۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ اُن کی وزارت میں پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کرنے سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہیں اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔

وزارت قانون کے جوائنٹ سیکرٹری سہیل صدیقی نے کہا کہ اُن کی وزارت میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنے کے لیے خصوصی عدالت کے قیام کے سلسلے میں کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔

پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ آرٹیکل چھ کے تحت کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کا اختیار وفاق کے پاس ہے اور سپریم کورٹ کسی طور پر بھی وفاقی حکومت کو ہدایات جاری نہیں کر سکتی کہ وہ کارروائی کے لیے خصوصی عدالتی بینچ تشکیل دے اور اگر سپریم کورٹ نے ایسا کیا تو وہ اپنے اختیارت سے تجاوز کرے گی۔

سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے وکلاء کو اپنے موکل سے ملنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے پہلے سابق صدر کے فارم ہاؤس پر موجود اڈیالہ جیل کے عملے نے ان وکلاء کو اپنے موکل سے ملنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

یاد رہے کہ سابق آرمی چیف اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں قید ہیں اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے چک شہزاد میں واقع اُن کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا ہے۔

متفرق درخواست

پیر کو سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی گئی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سابق فوجی صدر کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اس لیے اُنہیں سب جیل میں رکھنے کی بجائے اڈیالہ جیل بھیج دیا جائے۔

درخواست گُزار نے اس میں موقف اختیار کیا ہے کہ اُنہیں خطرہ ہے کہ پرویز مشرف کے لیے بھی ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والی جیسی کارروائی کی جائے گی اور اُنہیں وہاں سے چھڑا لیا جائے گا اس لیے بہتر ہوگا کہ اُنہیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جائے۔

اسی بارے میں