’بظاہر ایجنسیوں کا کردار نظر نہیں آ رہا‘

Image caption سے پونے چار کروڑ جعلی ووٹ خارج ہونا اور چار کروڑ نوجوان ووٹر کا اندارج بھی موجودہ انتخابات کی اہم پیش رفت ہے

پہلی بار پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں قومی سطح پر سیاسی جوڑ توڑ میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کا عمل دخل بظاہر نظر نہیں آ رہا۔

ماسوائے بلوچستان کے جہاں بقول سردار اختر مینگل اب بھی ریاستی ادارے ’ڈیتھ سکواڈ‘ بنا کر انتخابات میں من پسند نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن متعلقہ حکام ان کے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

تجزیہ کار اور اینکر پرسن حامد میر کہتے ہیں کہ ماضی میں ہونے والے انتحابات کی نسبت 11 مئی کے انتخابات غیر جانبدار، شفاف اور آزادانہ ہوں گے۔ ’پہلے جو الیکشن کمیشن ہوتا تھا وہ حکومت وقت کی مرضی کے مطابق چلتا تھا اور انھیں اتنے زیادہ اختیار بھی نہیں ہوتے تھے۔ پہلے انٹیلی جنس ایجنسیاں کھلے عام سیاست میں مداخلت کرتی تھیں لیکن اب ایسا نظر نہیں آ رہا۔‘

پاکستان میں یہ بھی پہلی بار ہو رہا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں فاٹا میں سیاسی جماعتوں کو امیدوار نامزد کرنے کی اجازت ملی ہے جب کہ پہلے فاٹا سے آزاد امیدوار ہوتے تھے اور ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی تھی۔

تجزیہ کار ظفر اللہ خان کہتے ہیں کہ پہلی بار سوشل میڈیا انتخابات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ’سچ پوچھیں تو 2008 میں نجی ٹی وی چینلز پر پابندیاں تھیں اور وہ بھی پہلی بار اپنا آزادانہ کردار ادا کر پائیں گے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ امیدواروں کے بارے میں تمام معلومات الیکشن کمیشن نے ویب سائٹ پر جاری کی ہے کہ کس نے کتنا ٹیکس دیا اور کتنا مقروض یا اس کی کتنی املاک ہیں۔ یہ بھی پہلی بار ہوا ہے نگراں حکومت ایک نیوٹرل ریفری کا کام کر رہی ہے اور سویلین سے سویلین کو اقتدار منتقل ہو رہا ہے اور ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔‘

زیادہ تر مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ 11 مئی کے انتخابات میں سب سے بڑا چیلنج امن و امان کا ہے اور طالبان کی جانب سے پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے جلسوں پر حملوں کی دھمکیوں نے انتحابی مہم کو مانند کردیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں الیکٹرانک میڈیا، ایف ایم ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے بھی مہم چلا رہی ہیں۔ خطرات کی وجہ سے بلاول بھٹو زرداری نے ویڈیو خطاب کے ذریعے مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا کے ذریعے مہم پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اور الیکشن کمیشن اپنے ضابطۂ اخلاق پر عمل بھی نہیں کر پائے گا کہ وہ پتا لگا سکیں کہ اخراجات مقررہ حد کے اندر ہیں یا اس سے زیادہ۔ نیز سیاسی جماعتوں پر اخراجات کی پابندی کا تو قانون ہی موجود نہیں ہے۔

اب تک طالبان نے عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کو نشانہ بنایا ہے اور حامد میر کے بقول کہ اس کا ’اے این پی‘ کو بہت سیاسی فائدہ ملے گا۔

کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ پر ووٹ دینے کی وجہ سے پونے چار کروڑ جعلی ووٹ خارج ہونا اور چار کروڑ نوجوان ووٹر کا اندارج بھی موجودہ انتخابات کی اہم پیش رفت ہے اور اس کا نقصان روایتی خان، سردار، وڈیروں اور چوہدریوں کو ہوگا۔

تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ اگر 55 فیصد یا اس سے زیادہ ووٹنگ کی شرح رہی تو نئی سیاسی قوت سامنے آسکتی ہے اور اگر یہ شرح 50 فیصد سے کم رہی تو پھر پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) کی ہی سیاست پر گرفت رہے گی۔ لیکن ان کے بقول کوئی بھی جماعت اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی اور آئندہ حکومت بھی مخلوط ہوگی۔

لیکن تجزیہ کار ظفر اللہ خان نے ایک اور اہم نکتے کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس کا کوئی حل نہیں نکالا گیا تو ووٹنگ کی شرح متاثر ہوگی: ’میرے خیال میں اہم چیلنج ووٹر کو پولنگ سٹیشن تک لانے کا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم پر امیدواروں پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ ووٹرز کو ٹرانسپورٹ فراہم نہیں کریں گے، پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات ناکافی ہیں اور الیکشن کمیشن نے خود بھی کوئی متبادل انتظام نہیں کیا اس لیے ووٹنگ کی شرح کم ہوسکتی ہے۔‘

واضح رہے کہ 11 مئی کو قومی اسمبلی کی 272 اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 877 عمومی نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 148 عمومی نشستیں ہیں، سندھ میں 61، خیبرپختونخوا میں 35، بلوچستان میں 14، اسلام آباد میں دو اور فاٹا میں 12 ہیں۔

صوبائی اسمبلیوں کی عمومی نشستوں میں پنجاب کی 297، سندھ میں 130، خیبرپختونخوا میں 99 اور بلوچستان میں 51 ہیں۔

اسی بارے میں