جنوبی پنجاب میں انجان سی خاموشی

Image caption ملتان شہر میں الیکشن کی گہما گہمی دکھائی دی

پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد میں چند دن ہی رہ گئے ہیں لیکن جنوبی پنجاب میں تاحال روایتی انتخابی سرگرمیاں دیکھنے میں نہیں آرہی بلکہ ایک انجان سی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر اور اولیاء کرام کی سرزمین ملتان میں کچھ حد تک الیکشن کا رنگ نظر آتا ہے لیکن دیگر شہروں میں حالات یکسر مختلف ہیں۔

پشاور سے ملتان جاتے ہوئے پنجاب کے کئی چھوٹے بڑے شہروں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ ان مقامات پر سفر کرتے ہوئے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ملک میں چند دن بعد الیکشن ہونے جارہے ہیں کیونکہ راستے میں نہ تو کوئی بڑا جلسہ دیکھنے میں آیا اور نہ کوئی جلوس یا ریلی۔

ایسا لگا کہ جیسے ابھی الیکشن کے انعقاد میں ایک دو ماہ باقی ہوں ۔

چنیوٹ اور جھنگ شہر کے بازاروں اور چوراہوں پر انتخابی امیدواروں کے پوسٹرز اور بینرز تو دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم یہاں بھی کوئی روایتی گرما گرمی دیکھنے میں نہیں آئی جو عام طورپر پاکستان میں الیکشن مہم کے آخری دنوں میں محسوس کی جاتی ہے۔

جھنگ شہر میں کئی اہم مقامات پر دیگر جما عتوں کے جھنڈوں کے ساتھ ساتھ کالعدم تنظیموں کے بینرز اور جھنڈے بھی دکھائی دیے ۔ لیکن مرکزی سڑک سے توڑے فاصلے پر واقع دیہات میں انتخابی سرگرمیوں کا عکس دکھائی نہیں دیا۔

ملتان شہر میں داخل ہوئے تو یہاں کسی حد تک الیکشن کی گہما گہمی دکھائی دی۔یہاں ہر طرف بازاروں، گلیوں اور چوراہوں میں امیدوراوں کے جھنڈے اور بینرز دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اس شہر کے باسی انتخابی عمل میں دلچپسی رکھتی ہیں۔ لیکن یہاں بھی ابھی تک کوئی ایسا بڑا جلسہ منعقد نہیں ہوسکا جس کے بارے میں کوئی اندازہ لگا یا جاسکے کہ گیارہ مئی کے انتخاب پر اس کا کوئی اثر ہوگا۔ ملتان میں زیادہ تر امیدوار ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کےلیے کارنر میٹنگز اور گھر گھر جاکر ملاقاتوں کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔

ضلع ملتان کے قومی اسمبلی کے چھ اور صوبائی اسمبلی کے چودہ حلقوں سے درجنوں امیدوار بالمقابل ہیں لیکن یہاں اصل انتخابی ٹاکرا پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کے مابین متوقع ہے۔

ملتان کے ایک باشندے تصورحسین سے اس خاموشی کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ لوگوں کے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو کسی اور چیز کا ہوش نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ’غریب آدمی کسی کے جلسہ جلوس میں کیوں جائِے، وہ کیوں کر کسی کےلیے زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگائے ، ان نمائندوں نے ان کو دیا ہی کیا ہے کہ اب وہ ان کےلیے اپنا وقت بھی ضائع کریں ۔‘

پنجاب میں عام طورپر دیگر صوبوں کے مقابلے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بتائی جاتی ہے اور یہاں تشدد کے واقعات بھی نسبتاً کم پیش آئے ہیں لیکن پھر بھی انتخابی گہما گہمی وہ زور نہیں پکڑ رہی جسکی توقع کی جارہی تھی۔ اسکی وجہ کیا ہے اس کے بارے میں لوگوں کی مختلف رائے ہے۔

بعض افراد کا خیال ہے کہ شاید الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کی گئی ضابط اخلاق سخت ہونے کی وجہ سے انتخابی امیدوار احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور وہ ایسے کوئی کام کرنے سے گریز کررہے ہیں جو ان کی نااہلی کا سبب بن سکے۔

لیکن دوسری طرف کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ملک میں عموعی طورپر امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہے اسی وجہ سے قومی سیاسی جماعتیں خطرات کے باعث بڑے بڑے جلسے منعقد کرنے سے گریز کررہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عوام سے براہ راست رابطے کی کمی پورا کرنے کےلیے سیاسی جماعتیں اب سوشل میڈیا یا ٹی وی چینلز پر اشتہار بازی سے کام لے رہی ہیں۔

اسی بارے میں