کراچی میں دھماکہ، ایم کیو ایم کے انتخابی دفاتر بند

Image caption زخمیوں اور میتوں کو عباسی شہید ہپستال منتقل کیا گیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں پیپلز چورنگی کے قریب ایک بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ایس ایس پی عامر فاروقی نے تصدیق کی ہے کہ بم موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا اور دہشت گردوں کا نشانہ متحدہ قومی موومنٹ کا انتخابی دفتر تھا۔

زخمیوں اور میتوں کو عباسی شہید ہپستال منتقل کیا گیا، جہاں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما پہنچ گئے۔

سابق صوبائی وزیر رضا ہارون کا کہنا تھا کہ دہشت گرد غیر قانونی ہتھیاروں اور بارود کے ساتھ گھوم رہے ہیں اور انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ دھماکے کے لیے ایک کلو گرام بارود استعمال کیا اور بم میں بال بیئرنگ بھی موجود تھے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ تمام انتخابی دفاتر بند کردیے جائیں۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق الطاف حسین نے چیف الیکشن کشمنر سے سوال کیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات اور بم دھماکوں میں پر امن انتخاب کا انعقاد کس طرح ممکن ہے۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق ایم کیو ایم نے بدھ کو کراچی سمیت سندھ بھر میں یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں اس سے پہلے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے انتخابی دفاتر پر فائرنگ ہوچکی ہے، پیر کو لانڈھی میں ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما آفاق احمد کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ میں ایک بچے سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں