کمانڈو سٹائل لڑائی میں وکلاء بریگیڈ کی پسپائی

Image caption جن وکلاء کو آج کے معرکے میں پسپائی اختیار کرنا پڑی اُنہیں راولپنڈی میں وکلاء کی ’بریگیڈ‘ بھی کہا جاتا ہے

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلاء اور پرویز مشرف کے حامیوں کے درمیان ہونے والی گھمسان کی جنگ سے بظاہر ایسا دکھائی دیاکہ وکلاء کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور وکلاء نے اس کا بدلہ لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

منگل کو وکلاء اور پرویز مشرف کے حامی پہلے تو ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے اور پھر وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نعرے گالیوں میں تبدیل ہوتے گئے اور دنوں جانب سے ایسی ایسی گالیاں سُننے کو ملیں جو کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔

گالیوں کے بعد دونوں جانب کے حمایتی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے اور پندرہ منٹ تک لاتوں اور مکوں کے ساتھ جاری رہے والی اس لڑائی میں پرویز مشرف کے حامیوں کا پلڑا بھاری رہا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے ان حامیوں کو پہلے کبھی بھی کسی بھی پیشی کے موقع پر نہیں دیکھا گیا جبکہ پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ افراد ان کی جماعت کے ’کارکن‘ ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق پرویز مشرف کی جماعت کے کارکن جس طرح کمانڈو سٹائل میں لڑ رہے تھے اُس سے کہیں بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ سابق فوجی صدر کی جماعت کے عام کارکن ہیں۔

اس کے علاوہ ان ’کارکنوں‘نے نہ صرف وکلاء کا لباس پہنا ہوا تھا بلکہ اُن کے ہاتھوں میں بیگ بھی تھے جن میں عینی شاہدین کے مطابق پتھر اور ڈنڈے چھپائے ہوئے تھے۔

دوسرے جانب کے لوگ پریشان تھے کہ مشرف کے حامیوں کو مارنے کی بجائے کیسے وکلاء اپنے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں لیکن جب حقیقت وکلاء پر آشکار ہوئی تو اُس وقت تک لڑائی ختم ہو چکی تھی۔

Image caption پندرہ منٹ تک لاتوں اور مکوں کے ساتھ جاری رہے والی اس لڑائی میں پرویز مشرف کے حامیوں کا پلڑا بھاری رہا

اس لڑائی میں ایسے راہگیر بھی تشدد کا نشانہ بنے جو اپنے کسی کام کے سلسلے میں ضلع کچہری آئے تھے۔ وکلاء ان افراد کو مشرف کے حمایتی سمجھ رہے تھے جبکہ سابق صدرکے حمایتی اُنہیں سفید کپڑوں میں ملبوس وکلاء کے ساتھی سمجھتے رہے۔

اس موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کا کردار بھی بڑا دلچسپ تھا۔پولیس نے دونوں گروپوں کو روکنے کے لیے عملی اقدام نہیں اٹھائے۔

شاید یہ صورتحال دیکھ کر پولیس اہلکار خوش ہو رہے ہوں کہ وکلاء نے بھی اُن کی پیٹی بھائیوں کو متعدد بار تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور ایسے حالات میں قانون کے رکھوالوں نے بظاہر خاموش تماشائی بننے میں ہی عافیت جانی۔

جن وکلاء کو آج کے معرکے میں پسپائی اختیار کرنا پڑی اُنہیں راولپنڈی میں وکلاء کی ’بریگیڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ میں جب کبھی بھی حکومت اور سپریم کورٹ کے درمیان تناؤ پیدا ہوتا ہے تو اس بریگیڈ میں شامل وکلاء اپنے مقدمات کی پیروی کو چھوڑ کرججوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سپریم کورٹ پہنچ جاتے تھے۔

اٹارنی جنرل اور بینچ کے درمیان کسی نقطے پر اختلاف ہوتا تو اس بریگیڈ کے وکلاء اٹارنی جنرل کو گالیاں دینے اور اُن پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے سے بھی نہیں کتراتے تھے۔

وکلاء نے اس واقعہ کے خلاف پرویز مشرف کے حامیوں کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے مقامی تھانے میں درخواست دے دی ہے۔