’سنے بغیر ہی نام ایگزٹ کنٹرول میں شامل کر دیا‘

Image caption عدالت نے ایف آئی اے کو بھی حکم دیا کہ تفتیش مکمل کر کے چالان تین مئی کو عدالت میں پیش کرے

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے وکلاء نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اُنہیں سُنے بغیر اُن کے موکل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا ہے جو کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا ہے۔

وکلاء کے مطابق وہ کسی مرحلے پر آ کر اس عدالتی حکم نامے کو چیلنج بھی کریں گے۔

پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اُن کے وکیل ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل ایک کمانڈو ہیں اور وہ تمام مقدمات کا سامنا کرنے کو تیار ہیں لیکن اُن کی پچانوے سالہ والدہ دبئی میں شدید بیمار ہیں اور اُن کی عیادت کے لیے پرویز مشرف کو دوبئی بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کا کوئی معاملہ ہوا تو اس کے لیے سپریم کورٹ میں الگ درخواست دائر کرنا پڑے گی جس پر غور کیا جائے گا۔

ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ ابھی تک اُن کے موکل کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندارج کا کہیں ذکر تک نہیں ہے جبکہ سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دینے کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ پرویز مشرف بطور آرمی چیف اور افتخار محمد چوہدری بحثیت چیف جسٹس آف پاکستان کا آپس میں جھگڑا رہتا تھا اور یہ دو اداروں کے سربراہوں کے درمیان لڑائی تھی۔

ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کے تین نومبر سال دو ہزار سات کے اقدامات سے متعلق اکتیس جولائی سال دو ہزار نو کا فیصلہ تعصب پر مبنی ہے کیونکہ اس اقدام سے متعلق فیصلہ کرنے والے بینچ کی سربراہی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کر رہے تھے۔

اُنہوں نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے ان اقدامات کی توثیق نہیں کی تھی لیکن تین نومبر کے اقدامات کے حق میں قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں قرار دادیں بھی منظور ہو چکی ہیں۔

پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قراردادوں پر عمل درآمد کرنا اداروں پر ضروری نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے دہشت گردی سے متعلق قرار دادیں بھی منظور کی تھیں لیکن اُن پر بھی کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

ان درخواستوں کی سماعت چوبیس اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

بینظیر بھٹو قتل کیس

سابق فوجی صدر کو سخت حفاظتی پہرے میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

پرویز مشرف کے وکلاء نے اُن کے موکل کو اشتہااری قرار دینے اور اُن کی جائیداد کو ضبط کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف درخواستیں دائر کی جو سماعت کے لیے منظور کر لی گئیں۔

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پرویز مشرف کو بینظیر بھٹو قتل کیس میں چوبیس اپریل تک کی عبوری ضمانت دی ہوئی ہے۔

پرویز مشرف کے وکلاء کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے اُن کے موکل کو شامل تفتیش نہیں کیا جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے اُنہیں چوبیس اپریل تک عبوری ضمانت دی ہوئی ہے اس لیے وہ اس معاملے کو وہاں پر ہی اُٹھائیں۔

عدالت نے ایف آئی اے کے حکام کو جو بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کر رہے ہیں، کو تین مئی تک چالان مکمل کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم اس مقدمے میں نو نامکمل چالان عدالت میں پیش کر چکی ہے۔

سابق آرمی چیف کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کچہری کے احاطے میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

اسی بارے میں